وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو کیا ریلیف دیا گیا ہے؟
حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔
اسی طرح سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق سالانہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دی گئی ہے۔
بجٹ کے مطابق سالانہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کمانے والے تنخواہ دار افراد کے لیے بھی ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا۔
تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
زنخواہ دار طبقے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بھی بجٹ میں خوشخبری موجود ہے کیونکہ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک میں مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت میں دس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
کاروباری اور غیر تنخواہ دار آمدن پر ٹیکس ریلیف
بجٹ میں کاروباری اور غیر تنخواہ دار شعبوں کے لیے بھی متعدد ٹیکس مراعات تجویز کی گئی ہیں۔
وزیرخزانہ کے مطابق حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد اور کاروبار پر عائد ایک فیصد سے 7 فیصد تک سپر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد اور جائیداد کی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات سے سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا۔

