ایران، امریکہ مذاکرات: امن معاہدے کے حتمی اور متفقہ متن پر اتفاق ہو چکا ہے، شہباز شریف
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے دوران مس انفارمیشن کی مہم کے شور کو نظر انداز کرکے وہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ امن معاہدے کے حتمی اور متفقہ متن پر اتفاق ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کی رات کو ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کی ثالثی کی جاری بھرپور کوششوں کے دوران ہم اس مسلسل غلط معلومات پھیلانے کی مہم سے پوری طرح آگاہ ہیں جو بعض عناصر کی جانب سے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’اس شور کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ امن معاہدے کے حتمی اور متفقہ متن پر اتفاق ہو چکا ہے اور پاکستان اب دونوں فریقین کے ساتھ مل کر اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ امن کبھی اس قدر قریب نہیں تھا جتنا اب ہے۔‘
خیال رہے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد ایران پر ممکنہ نئے حملے روک دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب جمعے کی رات کو ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ’اسلام آباد ایم او یو اپنے حتمی مرحلے کے اس قدر قریب پہلے کبھی نہیں رہی۔ اس کی تکمیل تک میڈیا کو اس کے مواد کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔‘
’ہم اپنے ذمہ دارانہ اور شفاف طرزِ عمل کے مطابق تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق لیک ہونے والے بیانات وہ نہیں جو تحریری طور پر طے پائے ہیں۔
انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران کے بیانات ’کمزور اور جھوٹ پر مبنی‘ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹرمپ نے ایران کو ’برا فریق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات ممکن نہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور مختلف محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں، جن میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔
ایک ایرانی ذریعے کے مطابق جو مسودہ زیر غور ہے اس میں توانائی کے اہم راستے ’آبنائے ہرمز‘ پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا، جبکہ جوہری معاملات کو بعد کے مذاکرات تک مؤخر کر دیا جائے گا۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے مکمل طور پر روکا جانا ضروری ہے۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت تہران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول نہیں چھوڑے گا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے باوجود کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
