تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، ٹیکس میں کمی، دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص؛ بجٹ 2026-27 میں اور کیا کچھ ہے؟
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، ٹیکس میں کمی، دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص؛ بجٹ 2026-27 میں اور کیا کچھ ہے؟
جمعہ 12 جون 2026 17:32
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18ہزار 771 ارب روپے کا سالانہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف اور سرچارج کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کر دہ بجٹ میں جہاں معاشی ترقی کی رفتار کو چار فیصد تک بڑھانے اور افراطِ زر یعنی مہنگائی کی اوسط شرح کو 8.2 فیصد پر لانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، وہیں پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ روکنے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے ڈھانچے میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، جس کے تحت مختلف سلیبس کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں یکمشت کمی اور سرچارج کا خاتمہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
حکومت نے مختلف سلیبس کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی ہے، جس کے تحت اب سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کمانے والوں پر ٹیکس 23 فیصد سے گھٹا کر 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح 32 سے 41 لاکھ روپے کی آمدن پر ٹیکس 30 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد، اور 41 سے 56 لاکھ روپے سالانہ پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، 56 سے 70 لاکھ روپے کی آمدن پر ٹیکس کی شرح اب 32 فیصد ہوگی، اور اس متوسط و اعلیٰ متوسط تنخواہ دار طبقے پر پچھلے بجٹ میں عائد کیا گیا سرچارج اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اگر بجٹ کی ان تجاویز کو ماہانہ آمدن کی بنیاد پر دیکھا جائے تو وہ ملازمین جو سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کما رہے ہیں اور جن کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 1 لاکھ 83 ہزار 333 روپے سے 2 لاکھ 66 ہزار 666 روپے کے درمیان بنتی ہے، ان کا شمار پہلے سلیب میں ہوگا جہاں ٹیکس کی شرح کو 23 فیصد سے گھٹا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح دوسرا سلیب ان افراد پر مشتمل ہے جن کی ماہانہ تنخواہ کا حجم 2 لاکھ 66 ہزار 666 روپے سے 3 لاکھ 41 ہزار 666 روپے تک بنتا ہے، اور حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق اب ان کی اس ماہانہ آمدن پر ٹیکس کی کٹوتی 30 فیصد کے بجائے 25 فیصد کی شرح سے کی جائے گی۔
سرچارج کا خاتمہ
وہ متوسط اور اعلیٰ متوسط پیشہ ور افراد جو سالانہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کے تیسرے سلیب میں آتے ہیں اور جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ 41 ہزار 666 روپے سے 4 لاکھ 66 ہزار 666 روپے کے برابر ہے، ان کے لیے ماہانہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد کی بھاری سطح سے کم کر کے 29 فیصد پر لائی آئی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مزید برآں، سالانہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کمانے والے اعلیٰ مینیجرز اور ایگزیکٹوز، جن کی ماہانہ تنخواہ کا حساب 4 لاکھ 66 ہزار 666 روپے سے 583,333 روپے بنتا ہے، چوتھے سلیب کے تحت اب 32 فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کریں گے۔ اس پورے طبقے کو ماہانہ تنخواہ پر لگنے والے پچھلے سرچارج کے خاتمے کی شکل میں اضافی ریلیف بھی ملے گا، جس سے ان کی گھر لے جانے والی خالص ماہانہ تنخواہ میں واضح بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
زنخواہ دار طبقے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بھی بجٹ میں خوشخبری موجود ہے کیونکہ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک میں مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت میں دس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد میں اضافہ
دوسری جانب، محصولات بڑھانے اور مارکیٹ کی نگرانی سخت کرنے کے لیے حکومت نے نئے ٹیکسز اور ڈیوٹیز بھی عائد کی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ اور جعل سازی کے سدباب کے لیے وائٹ سپرٹ، پٹرولیم نیفتھا اور منرل تارپین آئل جیسے پٹرولیم بیسڈ سالوینٹس پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امپوٹڈ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ
اس کے علاوہ امپورٹڈ کاروں، 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی ایس یو ویز اور دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مہنگی و لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
کاروباری برادری اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے بھی اس بجٹ میں ملی جلی تجاویز دی گئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ٹیکس چوری روکنے کے لیے اب کمپنیوں کے علاوہ انفرادی کاروباری افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے بھی لازم ہوگا کہ وہ کسی غیر رجسٹرڈ سپلائر سے سامان خریدتے وقت ادائیگی کے دوران ودہولڈنگ ٹیکس وضع کریں، جبکہ چھوٹے دکانداروں کی سہولت کے لیے سالانہ 20 کروڑ روپے سے کم سیلز پر صرف ایک فیصد فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
کاروباری برادری اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے بھی اس بجٹ میں ملی جلی تجاویز دی گئی ہیں۔ پندرہ کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 50 کروڑ سے زائد آمدنی پر اسے 10 فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کر دیا گیا ہے، تاہم بینکوں، فرٹیلائزر اور آئل اینڈ گیس کمپنیوں پر یہ سپر ٹیکس برقرار رہے گا۔
کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر عائد پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی
بیرون ملک سفر کرنے یا آن لائن خریداری کرنے والوں کے لیے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر عائد پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے صرف 0.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
جائیداد کی خرید و فروخت یعنی پراپرٹی سیکٹر میں فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے خریداری پر اسے 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کیا جا رہا ہے۔
آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اس شعبے پر عائد 0.25 فیصد فکسڈ ٹیکس کی رعایت کو مزید تین سال کے لیے یعنی 30 جون 2029 تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مجموعی ایکسپورٹ سیکٹر پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور منیمم ٹیکس کی مجموعی شرح کو کم کر کے 1.25 فیصد منیمم ٹیکس کر دیا گیا ہے۔
عوامی صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں بھی اہم فیصلے سامنے آئے ہیں۔ کینسر اور دیگر مہلک امراض کی ادویات کی مقامی سطح پر تیاری کو سستا بنانے کے لیے سو سے زائد خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ سینیٹری پیڈز اور خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات پر عائد ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
مزدوروں کی کم از کم اجرت 44 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے برعکس، بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 17 فیصد اضافہ کر کے اسے 838 ارب روپے کر دیا ہے، جس کے تحت کفالت پروگرام کا دائرہ کار اب ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پھیلایا جائے گا۔
دفاع کا بجٹ
بجٹ کے مجموعی حجم اور سٹریٹجک اخراجات پر نظر ڈالی جائے تو ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی بجٹ کا حجم تین ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
قومی ترقیاتی پروگرام کا کل حجم 3,675 ارب روپے ہے جس میں سے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ کی نیٹ زیرو ایکومولیشن حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور پی آئی اے کی 185 ارب روپے میں نجکاری کے بعد اگلے پانچ سالوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں مینوفیکچرنگ کمپنیوں بینکوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کا منصوبہ بھی اس بجٹ کا حصہ ہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے لیے ایک عبوری انتظام کے تحت 13,350 ارب روپے سے زائد کی رقم وفاق کو سٹریٹجک قومی تقاضوں کے لیے گرانٹس کی صورت میں دستیاب ہوگی، جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15,264 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات لاتے ہوئے ایک ’نیشنل فیس لیس سینٹر‘ قائم کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ٹیکس دہندہ اور افسر کا براہ راست رابطہ ختم کر کے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اور اب تمام کیسز کا انتخاب اور آفرز خودکار رسک سکورنگ اور الگورڈمک سیٹلمنٹ سسٹم کے تحت کی جائیں گی۔