Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی کی امن مذاکرات کی نئی کوشش، ’حد سے زیادہ مطالبات قبول نہیں،‘ ایرن

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اس وقت ایران کے مطالبات اور امریکہ کے مؤقف پر اپنے تحفظات پیش کیے، جب اسلام آباد امن مذکرات کی ایک نئی کوشش کی میزبانی کر رہا ہے جس کا مقصد اس جنگ کو ختم کرنا ہے جس نے ہزاروں افراد کی جان لی اور عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگرچہ تازہ مذاکرات کی تفصیلات کم ہیں تاہم عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
وائٹ ہاؤس نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کے روز پاکستانی دارالحکومت جائیں گے، تاہم ایران نے اب تک براہِ راست مذاکرات کے نئے دور کو مسترد کیا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مجوزہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر دیا ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی ہے۔
یہ تنازع28 فروری کو امریکہاسرائیل فضائی حملوں سے شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک پر حملے کیے، اور اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں کو کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے مہنگائی بڑھی اور عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کمزور ہوئے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے ’جنگ بندی اور ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر ہمارے ملک کے اصولی مؤقف کی وضاحت کی۔‘
اسلام آباد میں موجود ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ’بنیادی طور پر ایرانی فریق حد سے زیادہ مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔‘
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سے قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے پاس ’اچھا معاہدہ‘ کرنے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران جانتا ہے کہ ان کے پاس اب بھی دانشمندانہ انتخاب کے لیے کھڑکی کھلی ہے۔ انہیں بس یہ کرنا ہے کہ وہ قابلِ تصدیق اور مؤثر طریقے سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کریں۔‘
عباس عراقچی جمعہ کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس  پر پوسٹ کیا تھا کہ ایرانی حکام امریکی نمائندوں سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے اور تہران کے خدشات ثالث ملک پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔
صدرٹرمپ نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایران ایک ایسی پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو امریکی مطالبات کو پورا کرے، لیکن انہیں معلوم نہیں کہ اس میں کیا شامل ہوگا۔
انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ امریکہ کس سے مذاکرات کر رہا ہے، ’لیکن ہم ان لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو اس وقت ذمہ دار ہیں۔‘

شیئر: