ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات میں ایران کے مطالبات اور امریکہ کے مؤقف پر اپنے تحفظات پیش کیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگرچہ تازہ مذاکرات کی تفصیلات کم ہیں تاہم عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں ایران کے مطالبات پیش کیے۔
پاکستان سے روانگی کے بعد ایکس اکاؤنٹ میں جاری ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’پاکستان کا نہایت مفید دورہ رہا، اور ہم اپنے خطے میں امن بحال کرنے کے لیے پاکستان کی نیک خدمات اور برادرانہ کوششوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم نے ایران کی اس پوزیشن کو شیئر کیا جس میں جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارتکاری کے حوالے سے سنجیدہ ہے یا نہیں۔‘
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مجوزہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر دیا ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی ہے۔
مزید پڑھیں
-
جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ: شہباز شریفNode ID: 903328
یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اسرائیل فضائی حملوں سے شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک پر حملے کیے، اور اس جنگ نے توانائی کی قیمتوں کو کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے مہنگائی بڑھی اور عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کمزور ہوئے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے ’جنگ بندی اور ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر ہمارے ملک کے اصولی مؤقف کی وضاحت کی۔‘
اسلام آباد میں موجود ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ’بنیادی طور پر ایرانی فریق حد سے زیادہ مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔‘
دورسری جانب اے ایف پی نے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سنیچر کو اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔

واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتے قبل پاکستانی دارالحکومت میں براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور کیا تھا، جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم دونوں فریق اب تک دوسرے دور کے مذاکرات نہیں کر سکے ہیں۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر کی بھی جلد اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سے قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے پاس ’اچھا معاہدہ‘ کرنے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران جانتا ہے کہ ان کے پاس اب بھی دانشمندانہ انتخاب کے لیے کھڑکی کھلی ہے۔ انہیں بس یہ کرنا ہے کہ وہ قابلِ تصدیق اور مؤثر طریقے سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کریں۔‘
عباس عراقچی جمعہ کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر پوسٹ کہا تھا کہ ایرانی حکام امریکی نمائندوں سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے اور تہران کے خدشات ثالث ملک پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔
صدرٹرمپ نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایران ایک ایسی پیشکش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو امریکی مطالبات کو پورا کرے، لیکن انہیں معلوم نہیں کہ اس میں کیا شامل ہوگا۔
انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ امریکہ کس سے مذاکرات کر رہا ہے، ’لیکن ہم ان لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو اس وقت ذمہ دار ہیں۔‘

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے چند دن بعد ہفتے کے روز تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو گئیں ۔ پہلی پروازیں مدینہ، مسقط اور استنبول کے لیے روانہ ہوئیں، اور آنے والے دنوں میں آپریشنز میں اضافہ متوقع ہے۔
ایک مسافر نے ایئرپورٹ پر کہا کہ ’یہ ایک اچھا احساس ہے۔ جب پروازیں بحال ہوتی ہیں تو تجارت چلتی ہے اور لوگ اپنے کام کر سکتے ہیں۔‘
جنگ کے آغاز سے ایران کی فضائی حدود بڑی حد تک بند رہی ہیں۔ دنیا بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ، موڑ دی گئی اور دوبارہ شیڈول کی گئی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میزائل اور ڈرون خطرات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اس ہفتے اضافہ ہوا، برینٹ کروڈ 16 فیصد بڑھ گیا، کیونکہ امن مذاکرات کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال تھی اور خطے میں تشدد بھی بڑھا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق جمعہ کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں صرف پانچ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور اگر امریکی فورسز نے ’محاصرہ اور قزاقی‘ جاری رکھی تو وہ ردعمل دے گا۔












