Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ کے باوجود سعودی عرب ملازمت کے لیے ہنرمند فلپائنیوں کی پسندیدہ جگہ

سعودی عرب میں فلپائنیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی بھی میڈیا میں پھیلنے والی تشویش کو کم کرتی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرق وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد چھڑنے والی جنگ کے باعث جہاں بہت سی نئی نوکریاں معطل ہو گئی ہیں اور پروازیں بھی منسوخ ہو رہی ہیں، وہاں ہنرمند فلپائنی اب بھی سعودی عرب میں روزگار کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اپنی حفاظت کے بارے میں پراعتماد ہیں۔
28  فروری کو ایران پر حملوں اور خطے میں امریکی تنصیبات پر تہران کے جوابی حملوں کے بعد زیادہ تر خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ جانے والے اوورسیز فلپائنی ورکرز پرواز نہیں کر سکے۔
عرب نیوز کے مطابق غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں موجود کچھ فلپائنیوں کو حکومتی مدد سے وطن واپس جانے پر بھی مجبور کیا، اور اب تک پانچ ہزار  400 سے زائد افراد واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
تاہم سعودی عرب فلپائنیوں کے لیے بدستور ایک اہم اور زیادہ طلب والا روزگار کا مرکز بنا ہوا ہے، اور ایران جنگ کے باوجود وہاں کام کرنے کی دلچسپی برقرار ہے۔
ریکروٹمنٹ انڈسٹری کرائسس کوارڈینیشن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوریٹو سوریانو نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہم انتہائی ہنرمند کارکن جیسے نرس بھیج رہے ہیں۔‘
’ہمیں انہیں قائل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ خود ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہماری فلائٹ کب ہے؟‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب بیرون ملک کام کرنے والے فلپائنیوں کی سب سے بڑی تعداد کی میزبانی کرتا ہے اور 2024 میں بھی ان کی پہلی ترجیحی منزل رہا۔
اس سال تقریباً 22 فیصد فلپائنی، یعنی 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد نے سعودی عرب میں کام کرنے کا انتخاب کیا، جس کی ایک بڑی وجہ سعودی وژن 2030 کا معاشی تنوع کا پروگرام ہے، جبکہ ٹیکس فری تنخواہوں نے بھی انہیں زیادہ بچت اور گھر پیسے بھیجنے میں مدد دی۔
سعودی عرب میں فلپائنیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی بھی میڈیا میں پھیلنے والی تشویش کو کم کرتی ہے اور نئے ملازمین کو وہاں کام کرنے سے نہیں روکتی۔
سوریانو نے کہا کہ ’ہر فلپائنی کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتا ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہی آپ کو سچ بتائے گا، وہ اخباروں پر یقین نہیں کریں گے۔‘
سولو سے تعلق رکھنے والی رجسٹرڈ نرس کرسٹیل پیس ان میں سے ایک ہیں۔ وہ اگلے ہفتے ریاض جا کر پرنس سلطان ملٹری میڈیکل سٹی میں کام شروع کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا بیرون ملک کام کرنے کا پہلا موقع ہوگا۔ مجھے صورتحال کا علم ہے پھر بھی میں جانا چاہتی ہوں۔‘
’مجھے یقین ہے کہ میں محفوظ رہوں گی اور سعودی حکومت ہماری حفاظت کر سکتی ہے… میری بہن کی ساس وہاں ہیں اور وہ خیریت سے ہیں۔‘
مِکائیل لنڈن لاکانیل، جو اسی میڈیکل کمپلیکس میں کام کریں گے، پہلے بھی سعودی عرب میں ملازمت کے بعد فلپائن واپس آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اچھا ہے۔ وہ ورکرز کا خیال رکھتے ہیں اور سکیورٹی پر توجہ دیتے ہیں۔ میں وہاں محفوظ محسوس کرتا ہوں۔‘
لاکانیل ان بہت سے فلپائنیوں میں سے ایک ہیں جو دوبارہ سعودی مارکیٹ میں کام کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دیگر خلیجی ممالک میں ہزاروں ورکرز وطن واپسی کی درخواست کر رہے ہیں۔
جوسین ارما، جو پہلے سعودی عرب میں کام کر چکی ہیں، اب دوبارہ جانا چاہتی ہیں کیونکہ ان کے مطابق وہاں میڈیکل پروفیشن میں کام کرنا فلپائن کے مقابلے میں بہتر ہے۔
انہوں نے کہا ’میں نے مشرق وسطیٰ میں رہنے اور کام کرنے کا تجربہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ وہ لوگوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ وہاں محفوظ ماحول ہے۔ سچ یہ ہے کہ میں وہاں خود کو یہاں سے بھی زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہوں۔‘

شیئر: