ایران میں ’اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی
ایران میں ’اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی
ہفتہ 25 اپریل 2026 12:54
جنگ کے بعد سے ایران میں پھانسیوں شروع ہونے کے بعد ایران میں پھانسی پھانسی کی سزاؤں میں تیزی آئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران میں ایک شخص کو اسرائیل کے لیے ’جاسوسی‘ کے الزام میں پھانسی دے دی گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو ایران کی عدلیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پھانسی پانے والا شخص جنوری میں ہونے والے احتجاج کے دوران ’اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کے مشن‘ پر تھا۔
سزا کا یہ تازہ ترین واقعہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی جنگ چھڑنے کے بعد شروع ہونے والے اسی سلسلے کڑی ہے جس کے تحت پہلے بھی سزائی دی جا چکی ہیں۔
ایرانی عدلیہ ویب سائٹ میزان آن لائن پر بتایا گیا ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ کی جانب سے عرفان کیانی نامی شخص کی سزا کو برقرار رکھا گیا تھا، جس کے بعد سزا پر عملدرآمد ہوا۔
بیان میں عرفان کیانی کے میں کہا گیا ہے کہ وہ وسطی صوبے اصفہان میں بے امن کے دوران وہ ’موساد کی جانب سے دیے گئے مشن‘ کے لیے متحرک ’اہم کارندوں‘ میں سے ایک تھے۔
عدلیہ نے ان پر ’سرکاری و نجی املاک کی تباہی، آگ لگانے، تیز دھار ہتھیار رکھنے، گاڑیوں کا راستہ روکنے، افسران پر حملے کرنے اور شہریوں میں خوف و ہراس‘ پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کی جمعرات کو پھانسی سے قبل ایک اور شخص کو سزا دی گئی جس پر ایک ممنوعہ اپوزیشن گروپ کی رکنیت رکھنے کا الزام تھا۔
جنوری میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران ایران میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے چھڑنے والی جنگ کے بعد سے ایران میں پھانسی کی سزاؤں میں تیزی آئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جنوری کے مظاہروں کے لیے لوگوں کو ابھارنے کے پیچھے اسرائیل، امریکہ اور اپوزیشن گروپ کارفرما تھے۔
19 مارچ سے اب تک نو افراد کو احتجاج سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت دی جا چکی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنشینل سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ چین کے بعد سب سے زیادہ موت کی سزا ایران میں دی جاتی ہے۔