آبنائے ہرمز کو اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے، جو بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔ اس گزرگاہ کی بندش سے کروڑوں نہیں بلکہ کروڑوں سے بھی کہیں زیادہ انسان براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے توانائی اور خوراک کی فراہمی کے شعبے اس بحران کی زد میں آئے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات نے نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان حقیقی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے بلکہ ایران کی قیادت کے اندر موجود تقسیم بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے نہ صرف سرکاری نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ ایرانی مذاکرات کاروں پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے کیونکہ ان کے خیال میں ابتدائی مذاکرات میں غیر ضروری رعایتیں دی گئیں۔ حالانکہ اس عمل کی قیادت پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جو سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب و سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریب خیال کیے جاتے ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اختلافات نئے نہیں بلکہ جنگ سے پہلے بھی موجود تھے تاہم اب یہ زیادہ کھل کر اور نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔ فریقین اس بات پر بھی متفق نہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔
ایران نے جب یہ دیکھا کہ امریکہ بات چیت کے لیے بے تاب ہے تو اس نے اضافی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کی اور مذاکرات کی بحالی کو امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی داخلی اُلجھن کو بھانپتے ہوئے 22 اپریل کی ڈیڈ لائن کے بعد جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تاکہ ایران کو فیصلہ کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔
ایران کے میڈیا نے اس پر ٹرمپ کا مذاق اڑایا اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو جنگ جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جنگ سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد بدھ کے روز ایران نے دو تجارتی جہازوں کو قبضے میں لے کر اپنے ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔ یہ اس جنگ کے دوران پہلا موقع تھا جب ایران نے اس نوعیت کی کارروائی کی جو واضح طور پر کشیدگی میں اضافے کی علامت ہے۔
دونوں ممالک نے اپنی اپنی ناکہ بندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جب تک جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے، آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں، انہوں نے امریکی ناکہ بندی اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کا حوالہ بھی دیا۔
جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہونے والے ممالک، خصوصاً خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک، اس بات کے لیے مجبور ہیں کہ وہ اس آبی گزرگاہ کو غیر جانبدار بنانے اور تجارتی جہازوں کی معمول کے مطابق آمد و رفت کو یقینی بنانے کا کوئی حل تلاش کریں۔

خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ایک عالمی ذمہ داری ہے، جیسا کہ سمندری قوانین سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشنز میں واضح کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تاکہ اس گزرگاہ کو غیر جانبدار بنانے کا عمل شروع کیا جا سکے۔ تاہم باعثِ افسوس اَمر یہ ہے کہ چین اور روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا جس کی وجہ اس قرارداد کے مضمرات پر ابہام اور مسودے کی زبان پر اختلاف بتایا گیا۔ خلیجی ممالک رواں ماہ کے آخر میں دوبارہ یہ کوشش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
چین ان ممالک میں شامل ہے جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں خصوصاً جب امریکہ نے بھی ایران کی بندش کے جواب میں اپنی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس کے بعد چین کے لیے ایران کے ساتھ دوطرفہ معاہدہ کر کے اپنے جہاز گزارنے کی کوشش غیر مؤثر ہو گئی۔
روس نے اس قرارداد کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ اس سے امریکہ کی مداخلت کو تقویت ملے گی تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس قرارداد کا مقصد ایران کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں مداخلت بند کرے تاکہ امریکہ کو اپنی ناکہ بندی نافذ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
اس گزرگاہ کی نگرانی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت ہوتی جیسا کہ دیگر امن مشنز میں ہوتا ہے اور روس بطور مستقل رکن اس عمل کا حصہ رہتا۔
ایران کو اگر بین الاقوامی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت دے دی گئی تو ایک خطرناک مثال قائم ہوگی۔
تاریخ میں آخری بار 16 ویں اور 17 ویں صدی میں پرتگال نے اس گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر کے محصول عائد کیا تھا جسے 1622 میں ایک عالمی اتحاد نے ختم کر دیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران بھی اس اتحاد کا حصہ تھا۔ اس کے بعد سے کسی ریاست نے ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ بین الاقوامی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔
اسلام آباد مذاکرات اگر دوبارہ شروع ہو کر نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو خلیجی ممالک ان کا خیرمقدم کریں گے بشرطیکہ ان میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل، ڈرونز، خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت، اور جہاز رانی کی آزادی جیسے تمام اہم مسائل شامل ہوں۔
تاہم زیادہ امکان یہی ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار رہیں گے یا محض جزوی نتائج دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران جنگ بندی میں توسیع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے داخلی اختلافات کو سلجھانے یا پاسدارانِ انقلاب کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے۔
امکان یہی ہے کہ ایران کم از کم امریکہ کے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات کو طول دے گا کیونکہ اسے اندازہ ہے کہ امریکہ اس سے پہلے کسی بڑی فوجی کارروائی سے گریز کرے گا۔
ایران کو اگر یہ لگا کہ امریکہ جلد از جلد جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اس کے سخت گیر عناصر مزید رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایرانی قیادت ٹرمپ پر موجود دباؤ سے بخوبی آگاہ ہے۔
برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 51 ممالک پر مشتمل اتحاد جسے ’ہرمز اتحاد‘ کا نام دیا گیا ہے، ایک مثبت پیش رفت ہے جس کا مقصد مشترکہ سفارتی، معاشی اور عسکری صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم اس حوالے سے عملی اقدامات ایک پائیدار جنگ بندی کے بعد ہی شروع ہوں گے۔
یہ چونکہ واضح نہیں کہ پائیدار جنگ بندی کب ممکن ہوگی، اس لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے حل تلاش کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔ اس سے ایک مستقل نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے، اور اسے کسی ایک ملک کی مرضی سے مشروط نہ رکھے۔ یہی ماڈل باب المندب اور دیگر اہم آبی گزرگاہوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
مصنف خلیج تعاون کونسل کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور اور مذاکرات ہیں۔ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ خلیج تعاون کونسل کے مؤقف کی عکاسی کریں۔ ایکس: @abuhamad1












