عراق، لبنان کی طرح، اپنی مرضی کے برخلاف ایران کی جنگی حکمت عملی کا حصہ بننے پر مجبور ہوا۔ تاہم لبنان کی حکومت کے برعکس، جس نے حزب اللہ کی کارروائیوں کی مذمت اور مخالفت کی، عراقی حکومت نہ تو ملک میں سرگرم گروہوں کو روک سکی اور نہ ہی اُن کی کارروائیوں کی مذمت کی حالانکہ ان گروہوں نے کم از کم تین خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ احکامات ایران سے آتے ہیں اور جو کچھ ہوا اس کی براہ راست ذمہ داری عراقی حکومت پر عائد نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود ہر ملک پر قانونی طور پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکے۔ یہ ملیشیائیں ایران کے علاقائی نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور سنیچر کے روز قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی عراق پہنچے تاکہ ان گروہوں کی زمینی کارروائیوں کی نگرانی کر سکیں۔
عراق کا دارالحکومت بغداد اپنی سرزمین سے سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ممالک پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ہے کیونکہ یہ کارروائیاں عراقی ملیشیاؤں نے عراقی سرزمین سے کیں۔
مکمل تصویر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں آج کا عراق حقیقت میں کیا ہے۔ یہ نہ تو صدام حسین کا عراق ہے اور نہ ہی وہ عراق جو امریکی اثر و رسوخ میں تھا بلکہ یہ زیادہ تر ایران کے زیر اثر ایک ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ لبنان یا یمن جیسا بھی نہیں کیونکہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی تعداد زیادہ ہے اور جغرافیائی قربت کے باعث ان کا تہران سے تعلق زیادہ مضبوط ہے۔
بغداد ان گروہوں کی بڑی حد تک مالی معاونت کرتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ خطے میں ایران کی خفیہ کارروائیوں کے اخراجات میں بھی حصہ ڈالتا ہے۔ یہ ملیشیائیں تقریباً پانچ لاکھ اہلکاروں پر مشتمل ایک وسیع عسکری ڈھانچے کا حصہ ہیں جن میں سے نصف ملیشیاؤں پر مشتمل ہیں۔ یہ بظاہر عراقی فوج کی کمان کے تحت ہیں مگر انہیں فنڈنگ بغداد سے جبکہ احکامات اور وسائل تہران سے بھی ملتے ہیں۔
کئی برسوں سے ایران عراق پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس کے وسیع تیل کے ذخائر اور جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس نے عراق کے اندر ایک متوازی ریاستی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جیسا کہ لبنان اور کسی حد تک یمن میں بھی کیا گیا۔ عراق میں موجود اس کی ملیشیائیں ملک کی باقاعدہ فوج سے زیادہ طاقتور ہیں، جس طرح لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی باغی اپنی قومی افواج پر غالب ہیں۔ اگر ایران آج عراق پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو یہ اس کے لیے ممکن ہے، تاہم وہ فی الحال بالواسطہ کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے تاکہ ملک کے آئینی اداروں سے براہ راست ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔
جب ایران سیاسی نظام میں اس حد تک سرایت کر چکا ہے تو پھر اس نے عراقی ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کیوں نہیں کیا؟
میرے خیال میں اگر موجودہ بحران میں ایرانی نظام برقرار رہتا ہے تو وہ بالآخر ایسا کر سکتا ہے۔ تاہم فی الحال ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ عراق کا جمہوری خول اسے عالمی سطح پر ایک قانونی حیثیت فراہم کرتا ہے: پارلیمنٹ منتخب ہوتی ہے اور وہی وزیر اعظم اور صدر کا تقرر کرتی ہے۔ یہ صورتحال کسی حد تک اس لبنان سے مشابہ ہے جو شامی اثر و رسوخ میں تھا، ظاہری طور پر جمہوری نظام موجود مگر اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔
کیا عراق اور اس کے عوام کو ایران کے اثر و رسوخ اور ملیشیاؤں کے پھیلاؤ سے بچایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب مکمل طور پر نفی میں نہیں۔ کچھ امید باقی ہے۔ موجودہ جنگ اور ممکنہ پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔ دوسرا اہم عنصر یہ ہے کہ امریکہ اب بھی عراق کی زیادہ تر تیل آمدن، جو ڈالر میں ہوتی ہے، پر کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ رقوم نیویارک منتقل کی جاتی ہیں جہاں ان کے اخراجات اور حکومتی استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے۔
اسی ہفتے واشنگٹن نے ایک طرح سے ’ڈالر ہتھیار‘ استعمال کرنا شروع کیا ہے، جس کے تحت عراقی سکیورٹی اداروں کے لیے مختص مالی ترسیلات معطل کر دی گئی ہیں اور ان اداروں میں موجود ایرانی حمایت یافتہ عناصر کے خلاف پابندیوں کے نئے مرحلے کا اشارہ دیا گیا ہے۔
جب امریکہ نے عراق سے اپنی بیشتر فوجیں واپس بلا لیں تب بھی اس نے مالی نظام پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔ 2003 کے حملے کے بعد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے تحت، ڈالر کو بطور دباؤ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ نتیجتاً عراق کی تقریباً 90 فیصد آمدن تیل کی فروخت سے حاصل ہوتی ہے جو نیویارک کے فیڈرل ریزرو میں جمع ہوتی ہے، اور وہاں سے اربوں ڈالر نقد کی صورت میں بغداد کے مرکزی بینک کو بھیجے جاتے ہیں۔
رواں ہفتے یہ بھی رپورٹ ہوا کہ امریکی حکومت نے عراق کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی ایک کھیپ روک لی ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ان ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو ختم کرے جنہیں بغداد سے مالی اور عسکری مدد ملتی ہے۔ عراقی حکومت ایک طرف امریکی حمایت کی خواہاں ہے مگر دوسری جانب تہران کے ردعمل سے بھی خائف ہے۔ اس مخمصے میں وہ بظاہر امریکی دباؤ کو نظر انداز کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کے پاس ڈالر کے کافی ذخائر موجود ہیں۔ تاہم زیادہ امکان یہی ہے کہ عراقی دینار پر دباؤ بڑھے گا اور مالی صورتحال مزید سخت ہو جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کی طرف جھکاؤ کی قیمت بغداد کو چکانا پڑے گی۔
عبدالرحمن الراشد سعودی صحافی اور دانشور ہیں۔ وہ نیوز چینل العربیہ کے سابق جنرل منیجر اور اخبار الشرق الاوسط کے سابق مدیر اعلیٰ رہ چکے ہیں جہاں یہ مضمون پہلے شائع ہو چکا ہے۔









