’ملک کو جنگ میں جھونکنا غداری ہے‘، لبنان کے صدر جوزف عون کا حزب اللہ کو جواب
لبنانی صدر نے کہا کہ ’جن لوگوں نے ہمیں لبنان میں جنگ میں جھونکا، وہی اب ہمیں اس لیے موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازع کا خاتمہ ہے، جبکہ انہوں نے بالواسطہ طور پر ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جنگ میں دھکیلنا ’غداری‘ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنے بیان میں جوزف عون نے کہا، ’میرا مقصد اسرائیل کے ساتھ جنگ کی حالت کا خاتمہ کرنا ہے، جیسا کہ 1949 کے جنگ بندی معاہدے میں ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں کسی ذلت آمیز معاہدے کو قبول نہیں کروں گا۔‘
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں لبنانی صدر نے کہا کہ ’جن لوگوں نے ہمیں لبنان میں جنگ میں جھونکا، وہی اب ہمیں اس لیے موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ ہم نے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’جو ہم کر رہے ہیں وہ غداری نہیں؛ بلکہ غداری وہ کرتے ہیں جو اپنے ملک کو بیرونی مفادات کے لیے جنگ میں لے جاتے ہیں۔‘
جوزف عون نے کہا، ’کچھ لوگ ہمیں اس بات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ہم نے قومی اتفاقِ رائے کے بغیر مذاکرات کا فیصلہ کیا، تو میں پوچھتا ہوں: جب آپ جنگ میں گئے تھے، کیا آپ نے پہلے قومی اتفاقِ رائے حاصل کیا تھا؟‘
کئی دہائیوں کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔
پہلی ملاقات کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ہوئی، جبکہ بیروت اب اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے تاکہ امن معاہدہ طے کیا جا سکے۔ دونوں ممالک 1948 سے باضابطہ طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔
