امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے سے پہلے ہی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا متن جاری کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جس معاہدے پر ایران اور امریکہ نے الیکٹرونک دستخط کیے ہیں، کے بارے میں توقع ہے کہ جمعے کے روز اس پر باقاعدہ طور پر دستخط کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں
-
ایران، امریکہ امن معاہدے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟Node ID: 905381
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس کا متن جمعے کو ہونے والی رسمی دستخط کی تقریب کے بعد کسی بھی وقت جاری کر دیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
جی سیون سربراہی اجلاس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں کے ہمراہ صحافیوں گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جمعے کو متوقع دستخط کی تقریب میں ان کی شرکت کے بارے میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے تاہم نائب صدر جے ڈی وینس وہاں موجود ہوں گے۔

قبل ازیں فرانس پہنچنے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھول دی گئی ہے، جمعے کو یہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔‘
اسی طرح اس سے قبل پیر کو نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ اتوار کو معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کیے گئے تھے اور اس کے بدلے میں ایران کو کوئی رقم جاری نہیں کی گئی۔
جب فرانس میں امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا متن کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟
اس کے جواب انہوں نے کہا کہ ’شاید بہت جلد، میرا خیال ہے جمعے کو، یعنی مستقبل میں کسی بھی وقت اسے جاری کر دیا جائے گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں نرمی کا انحصار اس کے رویے پر ہو گا۔

’اگر وہ وہی کریں گے جو ان کو کرنا چاہیے تو پھر اس عمل کو شروع کر دیا جائے گا۔‘
اس سے قبل پیر کو ہی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے میں ایران کو کوئی رقم نہیں دی جائے گی اور معاہدے کا متن اسی ہفتے جاری کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو مالی فوائد صرف اس صورت میں حاصل ہوں گے جب وہ یورینیم کے انتہائی افزودہ مواد کے ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرے۔
ان کے مطابق ’اگر ہمیں نظر آتا ہے کہ ایرانی افزودہ مواد کے ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں تو پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایرانی ایسا تصدیقی نظام قبول کر رہے ہیں جس سے یہ یقین ہو سکے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے تو پابندیوں میں مزید نرمی بھی آئے گی۔

انہوں نے خبردار بھی کیا کہ ’اگر وہ درست اقدامات نہیں کرتے اور تصدیقی نظام کی اجازت نہیں دیتے تو ان کو جوہری پروگرام کو پھر سے بنانے کے لیے درکار مالی وسائل نہیں مل سکیں گے۔‘
اسی طرح انہوں نے سی این بی سی سے بھی بات کی اور کہا کہ امریکہ کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز طویل مدت تک کسی ٹول یا فیس کے بغیر کھلی رہے گی۔
ان کے مطابق ’یہ ایسے معاملات ہیں جن پر ہم تکنیکی مذاکرات کے دوران غور کریں گے، بہت سی اہم تفصیلات اب بھی ایسی ہیں جن کا طے ہونا باقی ہے اور ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ان کے بارے میں مشترکہ طور پر بات کریں گے اور آگے بڑھنے کا راستہ نکالیں گے۔‘

امریکہ اور ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرائط پر متفق ہو گئے ہیں جس پر عالمی منڈیوں میں ریلیف کے آثار دکھائی دے ہیں۔
اگرچہ یہ ابتدائی فریم ورک ہے تاہم فروری میں ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ ہی چھڑنے والی جنگ کے خاتمے کی جانب اس کو اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس لڑائی میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں اور عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے۔












