Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، کوئی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتا: امریکی وزیر جنگ

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا oy کہ ’13 اپریل سے شروع ہونے والی ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ’جب تک ضرورت پڑی جاری رہے گی، یا جیسا کہ صدر ٹرمپ فیصلہ کریں گے۔‘
واضح رہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کو اس ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔
جمعے کو پینٹاگون میں نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے دنیا کے کسی بھی حصے کی طرف کوئی جہاز امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتا۔‘
ان کے مطابق اب تک 34 جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے واپس موڑا جا چکا ہے۔
جنگ بندی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب آبنائے ہرمز اور اس کے اردگرد کے سمندری علاقوں تک منتقل ہو چکی ہے، جو تیل اور گیس کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں نے ایسے جہازوں کو قبضے میں لیا ہے جن پر ان کے مطابق ان کی عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے شکایت کی کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی اس شکایت کو دُہرایا کہ یورپی ممالک اس سلسلے میں تعاون نہیں کر رہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب آبنائے ہرمز اور اس کے اردگرد کے سمندری علاقوں تک منتقل ہو چکی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’یورپ اور ایشیا کئی دہائیوں سے ہماری طرف سے فراہم کیے گئے تحفظ سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اب مفت فائدہ اٹھانے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ ہی وہ سبب بنی جس کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کی۔
ہیگسیتھ نے تسلیم کیا کہ آبنائے ہُرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی ’لوگوں کی توقع سے کہیں زیادہ محدود ہو چکی ہے‘، جس کی ایک وجہ ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانا ہے۔
امریکی فوجی اور انٹیلی جنس اداروں میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ پانی میں کتنی بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے برطانیہ اور فرانس کی میزبانی میں رواں ہفتے قریباً 50 ممالک کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کو بحال کرنا تھا، ’فضول گفتگو‘ قرار دیا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ’وہ واحد ادارہ جسے ہر سال نوبل امن انعام ملنا چاہیے، امریکی فوج ہے، کیونکہ ہم نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا کے بہت سے لوگوں کی سلامتی اور تحفظ کے ضامن بھی ہیں۔‘ انہوں نے یہ بات اپنے اس بیان کے فوراً بعد کہی، جس میں وہ مخالفین پر ’انتہائی شدید تشدد‘کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔

پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی فوج کو ہر سال امن کا نوبل انعام ملنا چاہیے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اُن سے جب پوچھا گیا کہ کیا پینٹاگون ایران کے خلاف جنگ کو کیتھولک مسیحیت کے ’عادلانہ جنگ کے نظریے‘ کے تناظر میں دیکھتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، ’پوپ اپنا کام تو کریں گے۔‘
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ امریکہ نے بارہا اپنے نیٹو اتحادیوں پر ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں میں مدد نہ دینے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں ناکامی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم یورپ پر انحصار نہیں کر رہے، لیکن انہیں آبنائے ہُرمز کی ہم سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، اس لیے انہیں چاہیے کہ کم باتیں کریں، یورپ میں کم نمائشی کانفرنسیں کریں اور عملی قدم اٹھائیں۔‘

شیئر: