Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی فضائیہ کا بی 52 بمبار طیارہ ٹیک آف کے دوران گِر کر تباہ، 8 افراد ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے (فوٹو: اے پی)
امریکی فضائیہ کا ایک بمبار طیارہ ٹیک آف کے دوران ایئر بیس پر ہی گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔
خبر رساں ادارے اے پی نے فضائیہ کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعہ پیر کو کیلیفورنیا کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس میں اس وقت پیش آیا جب بی 52 جہاز نے رن وے پر اڑان بھرنے کی کوشش کی اور شعلوں میں گِھر گیا۔
ایئر فورس کے کرنل جیمز ہیز نے واقعے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ آٹھ انجن رکھنے والا یہ جہاز روایتی گولہ بارود کے علاوہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا اور یہ ایک تربیتی مشن پر تھا۔
حادثے کے بعد بیس سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھے جن کو کئی میل دور سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔
کرنل جیمز ہیز کے مطابق ’طیارے میں مختلف شعبوں کے لوگ سوار تھے جن میں ایک شہری، ایک سرکاری ٹھیکیدار اور فوجی اہلکار شامل تھے۔
دوسری جانب اس جہاز کو بنانے والی کمپنی بی این کا کہنا ہے کہ واقعے میں اس کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
 حادثے کے فوراً بعد جائے حادثہ سے سیاہ دھویں کا ایک بلند و بالا دھبہ میلوں دور تک دکھائی دے رہا تھا۔
کرنل ہائیز نے صحافیوں کو بتایا کہ ’جہاز گرنے کی وجہ سے ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے اور اسے جاننے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔‘
امریکی فضائیہ کے حکام کی جانب سے مرنے والے کے نام ظاہر نہیں کیے گئے اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی مرنے والوں کے اہل خانہ کو باضابطہ پر اطلاع دینے کی کارروائی جاری ہے۔
جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہ لاس اینجلس کے شمال میں 161 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی ویڈیو اس وقت وائرل ہے جس میں جلا ہوا جہاز دکھائی دے رہا ہے جبکہ دھواں بھی اٹھ رہا ہے اور ریسکیو کی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔

حکام کے مطابق آٹھ انجن رکھنے والا جہاز روایتی گولہ بارود کے علاوہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جیمز ہیز کے مطابق جہاز اچانک کریش ہوا اور اس سے بچاؤ کا امکان موجود نہیں تھا۔
ان کے مطابق ’ہم نے ایڈورڈز ایئر بیس پر کم سے کم منگل تک تمام فضائی آپریشنز کو بند کر دیا ہے کیونکہ رن وے کو نقصان پہنچا ہے۔‘
انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کہ بیس سے باہر بھی کسی آپریشن کو معطل کیا گیا ہے یا نہیں۔
ایڈروڈز ایئر فورس بیس 1930 کی دہائی میں ایک خشک جھیل کے قریب بننے والا ایک وسیع تجرباتی فلائٹ مرکز ہے جو تقریباً ایک ہزار 245 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا ایئر فیلڈ بھی ہے۔

شیئر: