Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اسرائیل کے لیے ’تباہ کُن‘ ہے: تجزیہ کار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران امریکہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک سٹریٹیجک دھچکا ہے اور واشنگٹن میں اس کے کم ہوتے اثر و رسوخ کا عکاس بھی ہے۔
 فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ ابھی تک مکمل نہیں ہے اور اس کو تکیمل تک پہنچنے میں 60 روز لگیں گے تاہم اس کے ابتدائی فریم ورک نے اسرائیل کے اندر تشویش پیدا کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں اسرائیل کے سب سے حساس مسئلے یعنی اس کی سلامتی کو مؤخر کیا گیا ہے جبکہ اس سے ایران کا فائدہ ہوا ہے۔
سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سٹرینووچ کے مطابق ’اس کا مطلب یہ ہے کہ امرایکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معالدہ سیاسی و سکیورٹی کے لحاظ سے ایک تباہ کن سانحے سے کم نہیں۔‘
یہ معاہدہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے بھی ایک دھچکا ہے جن کو امید تھی کہ وہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں حماس اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے فاتح کے طور پر داخل ہوں گے لیکن اس کے بجائے وہ اس وقت اہم جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی پر تنقید کی زد میں ہیں۔
نیشنل سکیورٹی سٹڈیز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ سیما شائن کا کہنا ہے کہ ’ہم کافی عرصے سے جانتے تھے کہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہو گا جس میں زیادہ تر ایران کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔‘
سیما شائن جو اسرائیل انٹیلی جنس میں ایک افسر کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں، کا مزید کہنا تھا کہ وہ معاملات جو اسرائیل کے لیے اہم ہیں جیسا کہ جوہری مسئلہ، اس کو مستقبل میں کسی ایسے وقت کے لیے چھوڑ دیا ہے جس کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں۔‘

سٹرینووچ کا کہنا تھا کہ ’یہ اسرائیل اور نیتن یاہو کے لیے بہت ہی زیادہ منفی پیش رفت ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سیٹرینووکز کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری مسئلے جیسے اہم حل طلب ایشو کو چھوڑنے کے علاوہ اس اقدام نے یہ امکان بھی کم کر دیا ہے کہ مستقبل میں کوئی امریکی صدر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا خطرہ مول لے گا۔‘
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں تہران کو تین ماہ سے زائد عرصے پر محیط تنازع کے بعد نسبتاً زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ ابھرنے کا موقع مل گیا ہے۔
ڈینی سیٹرینیووکز کے مطابق ’آخرکار ایران زیادہ مضبوط ہو رہا ہے جبکہ اسرائیل کے پاس ایسی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ امریکی صدر کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ابھی تک اس پر عوامی سطح پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم ان کے اتحادی اور قومی سلامتی کے مشیر اتمار بین گویئر پہلے ہی یہ کہتے ہوئے اقدام کو مسترد کر چکے ہیں کہ ’اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے۔‘
اسی طرح سٹرینووچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ اسرائیل اور نیتن یاہو کے لیے بہت ہی زیادہ منفی پیش رفت ہے کیونکہ وہ ایران کی مخالفت کے معاملے میں نمایاں ترین شخصیت سمجھے جاتے تھے اور ایران سے مخالفت اور کشیدگی کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کا زیادہ فائدہ ایران کو پہنچا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جانے والے نیتن یاہو اب ایسے معاہدے کے سامنے کھڑے ہیں جو اسرائیل کے تقریباً کسی بھی اہم مسئلے کا احاطہ نہیں کرتا۔‘
اگرچہ تجزیہ اس امر پر زیادہ حیران نہیں کہ اسرائیل مذاکرات میں موجود نہیں تھا تاہم ان کے نزدیک قابل توجہ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں اس کے اثر و رسوخ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کار ہوروویز کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اسرائیل نے کبھی براہ راست کردار ادا نہیں کیا بلکہ وہ واشنگٹن کے ذریعے ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا۔
ان کے مطابق ’حیرت کی بات یہ ہے جس سے اسرائیل کا کم ہوتا اثر و رسوخ عیاں ہوتا ہے، وہ یہ ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے خدشات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف اسرائیل کو نظرانداز کیا بلکہ عملاً اسرائیل کی جانب سے فیصلہ بھی خود ہی کیا جس سے قبل نہ مشاورت کی گئی اور نہ ہی آگاہ کیا گیا۔
’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے اور آخر میں فیصلہ کون کرتا ہے۔‘

 

شیئر: