Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جی سی سی مشاورتی اجلاس: آبنائے ہرمز بند کرنے کا ایرانی اقدام مسترد، مشترکہ بیان

جی سی سی اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا گیا ( فوٹو: اخبار 24)
 جدہ میں ہونے والے خلیجی مشاورتی سربراہی اجلاس میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ جی سی سی اور اردن پر ایران کے صریح حملوں کی مذمت کی گئی۔
 جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے بیان میں کہا ’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر جی سی سی ممالک کا 19 واں مشاورتی اجلاس ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں منعقد ہوا۔’
بیان کے مطابق’ ایسے سفارتی حل کے طریقوں پر غور کیا گیا، جو بحران کا خاتمہ اور مفاہمت کے لیے ٹھوس معاہدوں تک پہنچنے کی راہ ہموار کرے، جو جی سی سی کے رکن ممالک خدشات کو دور اور دیرپا سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کے لیے ہوں۔‘
 اجلاس میں شریک قائدین نے جی سی سی اور اردن کے خلاف ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی، جس میں شہری تنصیبات اور انفرا سٹرکچرکو نشانہ بنایا گیا۔ انہیں جی سی سی ممالک کی خود مختاری، اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی اور اچھے ہمسایہ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں جی سی سی ممالک کا ایران پر اعتماد شدید متاثر ہوا ہے،  ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کرے۔
سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا’ قائدین نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قرار داد 51 کے مطابق کونسل کے رکن ممالک کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے دفاع کا حق ہے۔ وہ اپنی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے لیے تمام اقدامات کرنے کا حق رکھتے ہیں اور یہ بھی کہ کسی بھی رکن ملک پرحملہ تمام رکن ممالک پر براہ راست حملہ تصور کیا جائے گا، جو مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق ہے۔‘
جی سی سی ممالک کے قائدین نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے، جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے ایران کے کسی بھی غیرقانونی اقدام، کسی بھی حالت میں بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کو مسترد کیا۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو 28 فروری 2026 سے پہلے والی حالت میں واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
 بیان میں خلیجی ممالک کے تمام مشترکہ منصوبوں بشمول ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز کی تکمیل کوجلد از جلد کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ساتھ ہی خلیجی ریلوے منصوبے پرعمل درآمد کو تیز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
خلیجی ممالک کے مابین تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے پائپ لائن منصوبے کے آغاز کو تیز کرنے کے علاوہ جی سی سی ممالک کے مابین بجلی کے انٹرکنکشن پروجیکٹ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
سیکرٹری جنرل البدیوی نے بتایا’ جی سی سی ممالک کے قائدین نے رکن ممالک کے درمیان فوجی انضمام کو تیز کرنے اور بیلیسٹک میزائلوں کے خلاف پیشگی وارننگ سسٹم کے منصوبے کی تکمیل کے عمل کو تیز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔‘

 

شیئر: