علاقائی کشیدگی: سیاحتی شعبے میں جی سی سی ممالک کو 32 ارب ڈالر تک کا نقصان
خلیجی وزرائے سیاحت کے ورچوئل اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا ( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا ہے کہ ’خطے کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز اب محض عارضی نوعیت کے نہیں رہے، بلکہ یہ خلیجی ملکوں کی صلاحیت کا حقیقی امتحان ہیں کہ ہم اپنی کامیابیوں کا تحفظ کریں اور اہم شعبوں کی کارکردگی کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنا سکیں۔‘
ایس پی اے کے مطابق جاسم محمد البدیوی نے منگل کو جی سی سی کے رکن ممالک کے وزرائے سیاحت کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کیا ہے۔
اجلاس کی صدارت بحرین کی وزیر سیاحت فاطمہ الصیرفی نے کی جبکہ رکن ملکوں کے وزرائے سیاحت بھی موجود تھے۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ’ یہ غیرمعمولی اجلاس ایک ایسے نازک مرحلے پر ہورہا ہے، جب خلیجی ملکوں کو ایرانی جارحیت کا سامنا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’خلیجی ممالک میں سیاحت کا شعبہ اقتصادی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سیاحت نہ صرف تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے بلکہ معیشت کو متنوع بنانے میں بھی اس کا کردار اہم ہے۔‘
انہوں نے کہا ’جی سی سی ملکوں نے خود کو کامیابی کے ساتھ عالمی سیاحتی مقامات کے طور پر منوایا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے اثرات سیاحت کے شعبے پر بھی پڑے ہیں۔ سفر کے رجحانات، سیاحتی سرگرمیوں کی رفتار اور مارکیٹوں کے استحکام پر اس کا اثر پڑا ہے۔‘

’اس صورتحال میں ہمیں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ کوششوں کو تیز کرنا ہو گا تاکہ سیاحتی شعبے کی ترقی کے عمل کا جاری رکھا جائے۔‘
انہوں نے خلیجی شماریات کے مرکز کی جانب سے 2024 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جی سی سی کے رکن ممالک میں 7 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ سیاح آئے جن سے تقریبا 120 ارب ڈالر آمد ہوئی۔‘
’موجودہ عسکری کشیدگی کے باعث سیاحوں کی تعداد میں 80 لاکھ سے ایک کروڑ 90 لاکھ تک کمی متوقع ہے جبکہ سیاحتی آمدنی سے ممکنہ نقصان 13 سے 32 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتا ہے۔‘

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’خلیحی ممالک باہمی اتحاد اور موثر تعاون سے تمام بحرانوں اور چیلنجز سے موثر طریقے سے نمنٹے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ ماضی کے تجربے ثابت بھی کیا ہے۔‘
جاسم البدیوی نے سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی کو یقینی بنانے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے عالمی سیاحتی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خلیجی خطہ ایک محفوظ اور پرکشش سیاحتی مرکز کے طورپر اپنی حیثیت برقرار رکھ سکے۔
