غزہ فلوٹیلا سے رہا ہونے والے آسٹریلوی شہریوں کا اسرائیلی فوج پر دوران حراست بدسلوکی کا الزام
تین آسٹریلوی شہریوں، جنہوں نے گلوبل سُمود فلوٹیلا میں حصہ لیا تھا، نے کہا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اسرائیلی جہاز پر کئی دن حراست کے دوران بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔
عرب نیوز کے مطابق دی گارڈین اخبار نے رپورٹ کی ہے کہ زیک شوفیلڈ، نیو او’کونر اور ایتھن فلائیڈ نے یونان کے جزیرے کریٹ پر بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جہاں اسرائیلی حکام انہیں چھوڑ گئے تھے۔
یہ پیش رفت بدھ کے روز عزہ امداد لے جانے کی کوشش کرنے والی فلوٹیلا کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے بعد سامنے آئی ہے، جو پیر کو اٹلی سے روانہ ہوئی تھی۔
تقریباً 175 کارکنوں میں سے 31 کو کریٹ کے سیتیا ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں یہ تینوں آسٹریلوی بھی شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا لیکن وہ تاحال جزیرے پر موجود ہیں۔
شوفیلڈ نے دی گارڈین کو بتایا کہ کارکنوں کو ایک ایسے ٹرانسپورٹ جہاز پر حراست میں رکھا گیا جسے جیل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاز کے مرکزی حصے میں کنٹینرز لگے ہوئے تھے جن کے گرد خاردار تاریں تھیں۔
اگرچہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون ساعر نے دعویٰ کیا کہ کارکنوں کو “’بغیر نقصان کے اتارا گیا‘ شوفیلڈ نے وسیع پیمانے پر بدسلوکی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ لوگوں کو چوتھے کنٹینر میں لے جاتے اور انہیں رائفل کے بٹ، ڈنڈوں، مکے اور لاتوں سے مارتے تھے۔‘
’میں نے ایک شخص کو قریب سے ربڑ کی گولی مارتے دیکھا، جو اس کی ٹانگ اور پیٹھ پر لگی۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ اسے اسی کنٹینر میں لے جا کر بار بار نازک اعضا سمیت جسم کے مختلف حصوں پر مارا گیا۔‘
شوفیلڈ نے ایک کم عمر کولمبین خاتون کو بھی دیکھا جسے ایک اسرائیلی فوجی نے پسلیوں پر بار بار مکے مارے۔
انہوں نے کہا، ’میرے پاؤں کے قریب دو فلیش بینگ گرینیڈ پھینکے گئے جبکہ میں جیل کے صحن کے دروازے کے سامنے بیٹھا تھا، اور مجھے ان کے پھٹنے سے پہلے بچنے کے لیے جھکنا پڑا۔‘
’مجھے اذیت ناک پوزیشنز میں رکھا گیا، جیسے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھنا اور سر کو زمین سے ٹکراتے رہنا۔‘
حراست میں لیے گئے کارکنوں کو دو دن تک اس جہاز پر برے حالات میں رکھا گیا، جہاں اسرائیلی فوجیوں نے دو مرتبہ ڈیک پر سمندری پانی بھی ڈالا۔
تینوں آسٹریلوی شہریوں نے کہا کہ انہوں نے حراست کے دوران اسرائیلی خوراک لینے سے انکار کیا اور فلوٹیلا کے رہنماؤں تھیاغو اویلا اور سیف ابو کشیک کی رہائی کا مطالبہ کیا، جنہیں ’تفتیش‘ کے لیے اسرائیل لے جایا گیا تھا۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اویلا اور ابو کشیک کو فوری رہا کیا جائے۔ سپین نے بھی ابو کشیک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
آسٹریلوی محکمہ خارجہ و تجارت کے مطابق قونصلر عملہ کریٹ میں موجود ہے تاکہ آسٹریلوی گروپ کی مدد کی جا سکے، جس میں مزید تین کارکن بھی شامل ہیں۔
ترجمان نے بیان میں کہا، ’ہم اسرائیل اور یونان میں مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی آسٹریلوی شہری کی حراست کی تصدیق کی جا سکے۔‘
آسٹریلیا میں فلوٹیلا کے حامی اتوار کو سڈنی ہاربر پر یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک تقریب منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
