ان کے مطابق ’ہم قزاقوں کی طرح ہیں، ہم انہی کی ایک قسم جیسے ہیں لیکن ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔‘
امریکہ نے تہران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے چند جہازوں کو بھی قبضے میں لیا ہے جن میں کچھ اور ایسے جہاز بھی شامل ہیں جن پر پابندیاں عائد تھیں اور ایرانی ٹینکروں کو ایشیائی پانیوں میں بھی روکا گیا۔
جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک ایران نے سوائے اپنے جہازوں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قریباً تمام ہی جہازوں کو روکا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔
امریکی فوج نے چند روز پیشتر ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران نے اس کا جواب خلیجی ممالک پر حملے کر کے دیا۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے علاوہ لبنان پر بھی اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر بھی ہوئے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ بھی بنی، جو سمندر میں ایک ایسا چیک پوائنٹ ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل اور لیکویڈ گیس کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
صدر ٹرمپ اس جنگ کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف اہداف پیش کرتے رہے ہیں اور اس وقت وہ امریکہ میں غیرمقبول ہیں، ان کو اس تنازع اور اس سے متعلق بیانات پر مذمتی سلسلے کا سامنا ہے خصوصاً اس وقت جب انہوں نے پچھلے مہینے یہ دھمکی دی تھی کہ ایران کی پوری تہذیب کو تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر حملے کیے (فوٹو: روئٹرز)
بہت سے امریکی ماہرین نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب صدر ٹرمپ نے ایران کے بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔