امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ’بحری قزاقوں کی طرح‘ کام کر رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کو دیے گئے بیان میں ان کا اشارہ امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز کو قبضے میں لیے جانے کی طرف تھا۔
انہوں نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے جہاز پر اور کارگو پر قبضہ کیا جبکہ تیل بھی قبضے میں لیا، یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔‘
مزید پڑھیں
ان کے مطابق ’ہم قزاقوں کی طرح ہیں، ہم انہی کی ایک قسم جیسے ہیں لیکن ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔‘
امریکہ نے تہران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے چند جہازوں کو بھی قبضے میں لیا ہے جن میں کچھ اور ایسے جہاز بھی شامل ہیں جن پر پابندیاں عائد تھیں اور ایرانی ٹینکروں کو ایشیائی پانیوں میں بھی روکا گیا۔
جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک ایران نے سوائے اپنے جہازوں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قریباً تمام ہی جہازوں کو روکا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران نے اس کا جواب خلیجی ممالک پر حملے کر کے دیا۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے علاوہ لبنان پر بھی اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر بھی ہوئے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ بھی بنی، جو سمندر میں ایک ایسا چیک پوائنٹ ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل اور لیکویڈ گیس کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
صدر ٹرمپ اس جنگ کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف اہداف پیش کرتے رہے ہیں اور اس وقت وہ امریکہ میں غیرمقبول ہیں، ان کو اس تنازع اور اس سے متعلق بیانات پر مذمتی سلسلے کا سامنا ہے خصوصاً اس وقت جب انہوں نے پچھلے مہینے یہ دھمکی دی تھی کہ ایران کی پوری تہذیب کو تباہ کر دیا جائے گا۔

بہت سے امریکی ماہرین نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب صدر ٹرمپ نے بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
بہت سے امریکی ماہرین نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب ٹرمپ نے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔












