ایران جنگ مینیو کارڈز پر بھی اثر انداز، دبئی کے ریستوران ویران ہونے لگے
ایران جنگ مینیو کارڈز پر بھی اثر انداز، دبئی کے ریستوران ویران ہونے لگے
ہفتہ 2 مئی 2026 11:46
جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کئی میزائل اور ڈرون حملے ہوئے (فوٹو: روئٹرز)
دبئی میں ایک میکسیکن ریستوران سے بطور شیف وابستہ شا لیش اواکاڈو، ٹومیٹیلوس اور کچھ دوسرے ایسے پھل اور سبزیاں کاٹ رہی ہیں جو وسطی امریکہ میں پائی جاتی ہیں اور میکسیکن کھانوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
شیف کچھ متفکر بھی لگ رہی ہیں اور کچھ ایسا ہی دیگر ریستورانوں میں کام کرنے والے عملے ساتھ بھی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ صورت حال تقریباً دو ماہ قبل چھڑنے والی ایران جنگ کے بعد سے ہے اور لیش کے علاوہ دوسرے شیفس کا کہنا ہے کہ اب ان چیزوں کو دبئی میں منگوانا کافی مشکل ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے راستے مسدود ہیں جبکہ جیٹ ایندھن کی بڑھتی قیمت کے باعث مال برداری کے اخراجات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
اس صورت حال میں شا لیش نے کام کم کر دیا ہے اور کم مقدار میں اشیا خرید رہی ہیں۔
انہوں نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مال برداری کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں اور آبنائے ہرمز بھی بند ہے۔
اس شاندار شہر کے شیف اب علاقائی اور آسانی سے بن جانے والے کھانوں کی طرف آ رہے ہیں یا پھر کم ڈشز پیش کر رہے ہیں جبکہ دبئی کے حکام کی جانب سے معیشت دوست اقدامات، اخراجات میں ریلیف اور لوگوں کو کھانے سے جوڑے رکھنے کے لیے کچھ مزید اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
یہ صورت حال متحدہ عرب امارات کی وسیع اور فل سروس ریسٹورنٹ مارکیٹ کے لیے ایک چیلنج ہے جس کا تخمینہ پچھلے برس ساڑھے نو ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔
دبئی میں ریستورانوں کے بزنس میں کافی دیکھی جا رہی ہے (فوٹو: روئٹرز)
جنگ شروع ہونے سے قبل پیش گوئی کی گئی تھی اس سال یہ کاروبار 11 ارب 30 کروڑ تک جا سکتا ہے تاہم جنگ نے یہ صورت حال بالکل ہی تبدیل کر دی۔
فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے ایسی جنگ چھڑی کہ تہران نے اس کا بدلہ خلیجی ممالک پر حملے کر کے لیا جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل تھا اور ان پر کئی ہفتے تک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اگرچہ آٹھ اپریل کو جنگ بندی ہو گئی تھی لیکن آبنائے ہرمز متحدہ عرب تک رسائی کا واحد سمندری راستہ ہے جس کو وہ 80 فیصد سے زائد خوراک کے سامان کے لیے استعمال کرتا ہے اور یہ راستہ بند ہے۔
اسی طرح جنگ کی وجہ سے یو اے ای میں سیاحوں کی آمد بھی بہت کم ہو گئی ہے جبکہ مہنگی گاڑیوں کی فروخت میں کمی آنے کے علاوہ ریستورانوں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جس کو دبئی کی ترقی اور سیاحت کے اہم جزو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
جونیپر سٹریٹیجی اینڈ گلوبل ریسٹورنٹ انویسٹمںٹ کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے فورڈ سروس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ پچھلے برس کی نسبت میں طلب میں اوسطاً 27 فیصد تک کمی آئی ہے۔
جنگ کے باعث سیاحوں کی آمد میں بھی کمی آئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
رپورٹ کے مطابق اشیا منگوانے کے اخراجات میں 13 فیصد اضافہ ہوا، اس سروسے میں ایک سے آٹھ اپریل کے دوران ان
دبئی ڈیپارٹمںٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم کا کہنا ہے کہ کچھ کاروباری اداروں کو ’گاہکوں کی کمی‘ کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں۔
روئٹرز کو بھجوائی گئی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں ریستوران اور ان کا عملہ نئے فارمیٹس کی طرف جا رہا ہے اور گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے نئی آفرز لگا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ و سیاحت کی جانب سے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا گیا۔