Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی کوسٹ گارڈ کی نگرانی میں غزہ جانے والا فلوٹیلا یونان لنگرانداز

یورپی ممالک نے اسرائیل سے کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
غزہ جانے والے امدادی بیڑے (فلوٹیلا) میں شامل درجنوں کارکن، جنہیں اسرائیلی افواج نے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا، جمعے کے روز یونان کے ایک جزیرے پر اتر گئے، یہ منظر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے منسلک ایک صحافی نے دیکھا۔
یونانی کوسٹ گارڈ کی نگرانی میں تقریباً 175 کارکنوں کو چار بسوں کے ذریعے ایک ایسے شہر لے جایا گیا جس کا نام حکام نے ظاہر نہیں کیا۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ جمعرات کے روز 20 سے زائد کشتیوں سے سوار تقریباً 175 کارکنوں کو اتارا گیا، جبکہ فلوٹیلا کے منتظمین نے یہ تعداد 211 بتائی۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر نے جمعرات کی رات ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’یونانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی میں فلوٹیلا کی کشتیوں سے اسرائیلی جہاز میں منتقل کیے گئے افراد کو آئندہ چند گھنٹوں میں یونان کے ایک ساحل پر اتار دیا جائے گا۔‘ انہوں نے فلوٹیلا کے شرکا کو قبول کرنے پر یونان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
کئی یورپی حکومتوں، جن کے شہری گرفتار کارکنوں میں شامل ہیں، نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کارکنوں کو رہا کرے۔ ان ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ 20 سے زائد کشتیوں میں سوار تقریباً 175 کارکنوں کو اتارا گیا (فائل فوٹو:  اے پی)

تاہم امریکہ نے اسرائیلی حکام کی حمایت کرتے ہوئے اس فلوٹیلا کو ’محض ایک ڈرامہ‘ قرار دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ’امریکہ اپنے تمام اتحادیوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس بے معنی سیاسی ڈرامے کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں، جن میں اس فلوٹیلا میں شریک کشتیوں کو بندرگاہ تک رسائی، لنگر انداز ہونے، روانگی اور ایندھن بھرنے کی سہولت سے محروم کرنا شامل ہے۔‘
منتظمین کے مطابق ابتدائی طور پر 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل اس فلوٹیلا کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کو توڑنا اور فلسطینی علاقے تک انسانی امداد پہنچانا تھا، جہاں اکتوبر سے اسرائیل اور اسلامی تحریک حماس کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کے باوجود رسائی بڑی حد تک محدود ہے۔

شیئر: