Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا جرمنی سے 5000 ہزار فوج واپس بلانے کا فیصلہ، نیٹو نے تفصیلات طلب کر لیں

نیٹو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس فیصلے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت واشنگٹن جرمنی سے 5,000 فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث نیٹو اتحادیوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے فوجیوں کی واپسی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آیا۔ فریڈرک مرز نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران مذاکرات کی میز پر واشنگٹن کو ’ذلیل کر رہا ہے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ فریڈرک مرز ’نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘
یہ پیش رفت اس وقت بھی سامنے آئی جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یورپی یونین سے درآمد ہونے والی کاروں اور ٹرکوں پر ٹیرف اگلے ہفتے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ یونین نے گزشتہ موسمِ گرما میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے جمعے کے روز کہا تھا کہ جرمنی سے تقریباً 5,000 فوجیوں کی واپسی آئندہ چھ سے بارہ ماہ کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
شان پارنل نے ایک بیان میں کہا، ’یہ فیصلہ یورپ میں محکمہ دفاع کی فورس پوزیشننگ کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور یہ خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔‘
31 دسمبر 2025 تک نیٹو کے اتحادی جرمنی میں امریکہ کے 36,436 فعال فوجی تعینات تھے، جبکہ اٹلی میں یہ تعداد 12,662 اور سپین میں 3,814 تھی۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ کی جانب سے ’یورپ اور خاص طور پر جرمنی سے فوجیوں کی واپسی متوقع تھی۔‘
نیٹو نے کہا کہ وہ جرمنی میں فوجی تعیناتی کے حوالے سے امریکہ کے فیصلے کی تفصیلات سمجھنے کے لیے اس کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’یہ تبدیلی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید سرمایہ کاری جاری رکھنی چاہیے اور ہماری مشترکہ سلامتی کی ذمہ داری میں بڑا حصہ لینا چاہیے۔‘

شیئر: