سیاسی فکشن لکھنے والوں نے ’تلمودی گریٹر اسرائیل‘ کا تصور پھیلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ ایران کی موجودہ کمزوری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جس سے ایران کے اتحادیوں میں خوف اور بے چینی پھیل رہی ہے۔
میرے خیال میں ہم ایک اہم تاریخی لمحے کا مشاہدہ کر رہے ہیں: دو منصوبوں کے درمیان کشمکش ، ’گریٹر اسرائیل‘ اور ’گریٹر ایران۔‘
آئیے اس بات پر اتفاق کریں کہ ہر قوم کے اندر توسیع پسندانہ عزائم ہوتے ہیں اور وہ اپنے پڑوسیوں، علاقائی نظام اور شاید پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے مگر آخرکار یہ سب سمندر کے کنارے ریت کے گھروں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
تجزیہ: امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی کیوں اہم ہے؟Node ID: 903717












