Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تجزیہ: ’گریٹر اسرائیل‘ بمقابلہ ’گریٹر ایران‘، خطے میں بالادستی کی کشمکش

سیاسی فکشن لکھنے والوں نے ’تلمودی گریٹر اسرائیل‘ کا تصور پھیلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ ایران کی موجودہ کمزوری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جس سے ایران کے اتحادیوں میں خوف اور بے چینی پھیل رہی ہے۔ 
میرے خیال میں ہم ایک اہم تاریخی لمحے کا مشاہدہ کر رہے ہیں: دو منصوبوں کے درمیان کشمکش ، ’گریٹر اسرائیل‘ اور ’گریٹر ایران۔
آئیے اس بات پر اتفاق کریں کہ ہر قوم کے اندر توسیع پسندانہ عزائم ہوتے ہیں اور وہ اپنے پڑوسیوں، علاقائی نظام اور شاید پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے  مگر آخرکار یہ سب سمندر کے کنارے ریت کے گھروں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔
اس خطے میں دو تاریخی مظاہر بڑے منصوبوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں: ایران اور اسرائیل۔
جدید ایران نے ایک عرصے تک ایک علاقائی سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی جو بحیرۂ کیسپین سے بحیرۂ روم تک پھیلی ہوئی تھی اور اس نے اپنی فارسی اور اسلامی سلطنتی روایات سے قوت حاصل کی۔
اس نے چار دہائیوں تک توسیع پسندانہ جنگیں لڑیں۔ درحقیقت ایران نے شام، لبنان، غزہ اور یمن میں اپنی موجودگی کے ذریعے بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر تک رسائی حاصل کر لی تھی۔
اس عسکری توسیع نے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کے خلاف ردعمل دیں اور بالآخر اس منصوبے کو اس کے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے مضبوط ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ اس جوابی کارروائی کے بعد ایران تیزی سے سکڑ گیا اور خود کو خلیجی پانیوں تک محدود پایا۔
تہران کی قیادت نے فولادی عزم کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو چیلنج کیا۔ جب علاقائی اور عالمی طاقتیں اس کا مقابلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہیں تو اسے یقین ہو گیا کہ ’گریٹر ایران‘ مستقل طور پر قائم رہے گا۔
یہ ایک نظریاتی، تاریخی بنیادوں پر قائم اور جارحانہ منصوبہ تھا، جس نے سابق برطانوی اور فرانسیسی اثر و رسوخ والے علاقوں پر قبضہ کیا اور ان ریاستوں کی خودمختاری کو کمزور یا کچل دیا جن پر اس نے غلبہ پایا۔
مگر ’گریٹر ایران‘ پہلی براہ راست آزمائش میں ہی ٹوٹ گیا۔ اس کی نظریاتی بنیادوں نے پراکسی طاقتوں کی ایسی سلطنت کھڑی کی جو حالیہ جنگوں میں بکھر گئی۔
ممکن ہے کہ سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اپنے توسیع پسند منصوبے میں جزوی یا مکمل کامیابی حاصل کر لیتے اگر ان کے پاس ایسے حکام ہوتے جو جدید سیاست کی حقیقتوں کو بہتر طور پر سمجھتے۔ ایران کی مہمات نپولین کی یورپ میں تیز رفتار فتوحات سے مشابہ تھیں، جو جتنی تیزی سے پھیلیں، اتنی ہی تیزی سے ختم بھی ہو گئیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ’گریٹر اسرائیل‘ کا کیا بنے گا؟ ایران کی طرح اسرائیل کے بھی توسیع پسندانہ عزائم ہیں، لیکن وہ ایک مختلف نظریاتی فریم ورک پر مبنی ہیں۔ ایران کی طرح اسرائیل نے بھی ایک معاندانہ ماحول میں اپنی مستقل مزاجی اور عزم کے ذریعے ایک مضبوط ریاست قائم کی۔ آج یہودی ریاست واشنگٹن سے بیجنگ تک اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
ایرانیوں اور اسرائیلیوں میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ دونوں تاریخی اور مذہبی بیانیوں سے طاقت حاصل کرتے ہیں۔ تاہم دونوں میں اہم فرق بھی موجود ہیں: اسرائیل میں یہودیوں کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے، جبکہ ایران کی آبادی لگ بھگ 9 کروڑ ہے۔ ایران کے پاس آبادی، جغرافیہ اور مسلکی اثرات کی ایسی وسعت ہے جو اسرائیل کو حاصل نہیں۔
اگر اسرائیل زمینی توسیع پر غور کرے تو غالب امکان ہے کہ وہ جنوب میں سینا، نہر سویز، مغربی شام یا لبنان میں دریائے لیتانی سے آگے جانے سے گریز کرے گا۔
اسرائیل بظاہر تہران کی مذہبی قیادت کے مقابلے میں جغرافیائی و سیاسی خطرات کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے: فائدہ محدود جبکہ خطرات بہت زیادہ ہوں گے۔
حتیٰ کہ اگر ہم سازشی نوعیت کے اس مفروضے کو تسلیم بھی کر لیں تو ہمیں دو فرضی اسرائیلوں کی بات کرنا ہو گی: ایک تلمودی وعدوں کا اسرائیل اور دوسرا تاریخی بیانیوں کا اسرائیل۔ مؤخر الذکر میں وہ اسرائیلی شامل ہیں جو خود اس کی سرحدوں کو آج کی حدود تک محدود سمجھتے ہیں، جن میں مغربی کنارہ اور جنوبی لبنان کے کچھ حصے شامل ہیں۔
اسرائیل گزشتہ پچاس برسوں سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اب بھی اسے مکمل طور پر ہضم نہیں کر سکا۔
کسی بھی بڑی ریاست کے لیے چند بنیادی عناصر ضروری ہوتے ہیں جن میں سب سے اہم آبادی کا حجم ہے۔ اسرائیل نے دنیا بھر سے یہودیوں کو ہجرت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن محدود کامیابی حاصل ہوئی۔
عالمی نقشے پر اسرائیل رقبے کے لحاظ سے نہایت چھوٹا ملک ہے؛ تیونس اس سے آٹھ گنا بڑا ہے۔ ایک یہودی ریاست ہونے کے باوجود اس پر زیادہ تر سیکولر وزرائے اعظم نے حکومت کی ہے۔
مزید یہ کہ یہ ایک یکساں قوم بھی نہیں: فلسطینی، جو اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں، مقبوضہ علاقوں میں آبادی کا نصف سے زیادہ ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کا پانچواں حصہ بھی فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔ یہ تمام عوامل وسیع پیمانے پر زمینی توسیع کے تصور کو غیر حقیقت پسندانہ بناتے ہیں اور اسرائیلی ریاست کے اتحاد کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔
گریٹر اسرائیل‘ کے نظریے کے حامی دو نہایت کمزور شواہد پر انحصار کرتے ہیں۔ گویا وہ کسی خفیہ منصوبے کا انکشاف کر رہے ہوں،
وہ سنہ 1982 میں لکھے گئے ایک مضمون اور ایک اسرائیلی فوجی کے کندھے پر لگے کپڑے کے ایک نشان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگر اسرائیل واقعی شمالی سعودی عرب، پورے اردن، آدھے عراق اور پورے سینا تک توسیع کا ارادہ رکھتا تو وہ کھلے عام اس کا اعلان کرتا، اس کی تشہیر کرتا اور اسے جواز فراہم کرتا تاکہ دنیا اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ توسیع عام طور پر اسی طرح کی جاتی ہے جیسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ اور کینیڈا کے بارے میں کھل کر بات کی۔
بنیامین نیتن یاہو اور دیگر رہنماؤں کا ’گریٹر اسرائیل‘ اس تصور سے مختلف ہے۔ اس سے مراد دراصل مغربی کنارہ، غزہ اور گولان کی پہاڑیوں کا الحاق مکمل کرنا ہے۔ وہ علاقے جو اس وقت غیر قانونی قبضے میں ہیں۔
جی ہاں، ایک ’گریٹر اسرائیل‘ کا منصوبہ موجود ہے لیکن یہ وسیع زمینی توسیع کے بجائے اثر و رسوخ اور علاقائی بالادستی کا منصوبہ ہے۔
حالیہ برسوں میں اسرائیل ایک طاقتور عسکری قوت بن چکا ہے جسے چیلنج کرنے کی ہمت بہت کم لوگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کوشش کی، وہ کچلے گئے۔ اسرائیلی محقق ڈینیئل لیوی نے ’گریٹر اسرائیل‘، توسیع پسندانہ تنازع اور جنگ کے بعد کے منظرنامے پر اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔
میں ان کی بعض باتوں سے اتفاق کرتا ہوں اور بعض سے اختلاف۔ ان کے مطابق آج اسرائیلی پالیسی تہران کی حکومت کا خاتمہ کرنا، ایران کو کمزور اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے اور وہ اسے ایک وسیع علاقائی حکمت عملی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ میں ان سنجیدہ اور اہم نکات پر بعد میں واپس آؤں گا۔
___
عبدالرحمن الراشد سعودی صحافی اور دانشور ہیں۔ وہ العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینیجر اور اخبار الشرق الاوسط کے سابق مدیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں، جہاں یہ مضمون پہلے شائع ہوا۔ ایکس : @aalrashed

 

شیئر: