’گھر والے شادی نہیں کرتے، پولیس کروائے‘، انڈین خاتون تھانے پہنچ گئی
پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا میں ایک خاتون نے پولیس کے پاس شکایت درج کروائی ہے کہ گھر والے ان کی شادی نہیں کروا رہے۔
درخواست میں پولیس سے استدعا بھی کی گئی ہے کہ ’کسی اچھے شخص کے ساتھ شادی کروائی جائے۔‘
ٹریبیون انڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے علاقے سرائے عنایت کی رہائشی مادھوری پٹیل نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ گھر والے اخراجات سے بچنے کے لیے شادی نہیں کروا رہے۔
ان کے مطابق وہ شادی کرنا چاہتی ہیں مگر بھائی اور ان کی بیوی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور کئی رشتوں کے لیے انکار کر دیا۔
انہوں نے اس کی ممکنہ وجہ یہ بتائی ہے کہ گھر والے شادی کے اخراجات سے بچنا چاہتے ہیں۔
خاتون نے درخواست میں بھائی پر الزام لگایا کہ انہوں نے خاندانی زمین اپنے نام پر منتقل کروا لی ہے اور ان کی شادی کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے اپنی درخواست میں والد، والدہ، بھائی اور بھابی کو فریق قرار دیا ہے۔
41 سالہ مادھوری پٹیل کا کہنا ہے کہ وہ 20 برس سے اکیلی رہ رہی ہیں اور اپنے اخراجات بھی خود برداشت کر رہی ہیں۔
انہوں نے گھر والوں پر ان کے لیے نازیبا زبان استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا ہے جبکہ ذہنی تشدد کے علاوہ ایک بار ان پر حملہ بھی کیا گیا۔
خاتون کی جانب سے درخواست میں پولیس سے استدعا کی گئی ہے کہ کوئی اچھا آدمی دیکھ کر شادی کرا دی جائے تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
شکایت سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آگے کا ایکشن شواہد کی بنیاد پر لیا جائے گا۔