نیویارک کا ’بُک لیس بُک سٹور‘ جہاں کتابیں موجود نہیں اور ہیں بھی
نیویارک کا ’بُک لیس بُک سٹور‘ جہاں کتابیں موجود نہیں اور ہیں بھی
اتوار 3 مئی 2026 11:40
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کتابوں کے نئے فارمیٹ کو بہت پسند کیا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لائبریری کو کتب خانہ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہاں کتابیں ہوتی ہیں مگر اب امریکہ میں ایک ایسا کتب خانہ کھلا ہے جس میں کتابیں موجود نہیں مگر پھر بھی اس کو بک سٹور کہا جاتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آڈیبل کمپنی نے جمعے کو نیویارک میں اس کا افتتاح کیا اور اس کو ’بک لیس بک سٹور‘ قرار دیا ہے جبکہ شہر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو یہ فارمیٹ بہت پسند آیا ہے۔
یہ سٹور ایمیزون کی جانب سے کھولا گیا ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں وہ ضعیف جلدوں اور خستہ صفحوں والے ناول دکھائی نہیں دیتے جو برسہابرس گزر جانے کے بعد بھی مشہور ہیں۔
یہاں کتابیں موجود نہیں مگر موجود بھی ہیں، یعنی کتابیں کسی ٹھوس شکل میں نہیں ملتیں مگر سنی جا سکتی ہیں، سٹور میں تمام ہزاروں کی تعداد میں کتابوں کے آڈیو ورژن موجود ہیں۔
اس کے سی ای او باب کیریگن پریس وزٹ کے دوران بتایا کہ ’یہ ایک جگہ جو مکمل طور کتابیں سننے کے لیے وقف ہے۔‘
سی ای او باب کیریگن کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک قدے انوکھا خیال ہے جس کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے کافی سوچ بچار سے گزرنا پڑا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
باب کیریگن کے مطابق ’یہ ایک قدے انوکھا خیال ہے جس کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے کافی سوچ بچار سے گزرنا پڑا اور اس کا مقصد آڈیو بکس کو ایک ایسے ماحول میں ایک بار پھر زندہ کرنا ہے جہاں آپ آرام سے بیٹھ کے اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔‘
آڈیو پبلشرز ایسوسی ایشن (اے پی اے) کے مطابق 2024 کے دوران امریکہ میں آڈیو بکس کی سیل دو ارب 22 کروڑ ڈالر تک پہنچی جو کہ پچھلے پانچ برس میں دو گنا کے قریب اضافہ تھا۔
سٹور میں آڈیو بکس جسے ’سٹوری ٹائلز‘ کہا جاتا ہے شیلف میں کتابوں کی ہی طرح لگی ہوئی ہیں اور وہ پلیئر اور ہیڈ فون کے ذریعے گیان دینے کو تیار ہوتی ہیں۔
پلے کیے جانے پر کتاب کا مختصر تعارف سننے کو ملتا ہے اور اس کے بعد اگلے ابواب تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آڈیو پبلشرز ایسوسی ایشن (اے پی اے) کے مطابق آڈیو بکس کی سیل بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یہ پلیٹ فارم ایمیزون کا اکاؤنٹ رکھنے والوں کو سبسکرپشن، انفرادی خریداری میں رعایت کے علاوہ کچھ ٹائلز بغیر قیمت کے بھی پیش کرتا ہے۔
سٹور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صارف ہیڈ فون کے ذریعے کتاب نہیں سننا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایک الگ کمرہ بھی بنایا گیا ہے جہاں سپیکر لگے ہیں جبکہ ایک لسننگ بار بھی موجود ہے جہاں سٹور ٹینڈرز آنے والوں کو ان کے ذوق کے مطابق ٹائلز تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ آڈیبل سٹوری ہاؤس کتاب کلچر کی پرانی یادوں اور اس سے جڑے لوگوں کے احساس کو موجودہ دور سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔