Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کی جہاز راں کمپنیوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی کرنے پر وارننگ

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 45 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے کا کہا جا چکا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ نے جہاز راں کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی کرتی ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں اداے اے پی کے مطابق امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول  کی جانب سے جاری کردہ انتباہ نے خلیجِ عرب کے دہانے پر واقع اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کے بعد جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں کے ذریعے اس گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں اس نے بعض جہازوں کو اپنی ساحلی حدود کے قریب متبادل راستوں سے گزار کر محفوظ گزرنے کی اجازت دینا شروع کی، جس کے عوض بعض اوقات فیس بھی وصول کی جاتی رہی۔
امریکہ کی وارننگ خاص طور پر اسی ’ٹول ٹیکس طرز کے نظام پر مرکوز ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ادائیگی صرف نقد رقم تک محدود نہیں بلکہ ’ڈیجیٹل اثاثے، تبادلے، غیر رسمی لین دین یا دیگر اشیائی ادائیگیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں، جن میں خیراتی عطیات یا ایرانی سفارت خانوں میں ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں امریکہ نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی، جس کے تحت ایرانی آئل ٹینکرز کو باہر جانے سے روکا جا رہا ہے اور تہران کو اس کی معیشت کے لیے درکار تیل کی آمدنی سے محروم کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 45 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے کا کہا جا چکا ہے۔

 

شیئر: