Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران نے ’غلط رویہ اپنایا‘ تو حملے پِھر شروع ہو سکتے ہیں: صدر ٹرمپ

ایران کے مطابق ’بال اب امریکہ کے کورٹ میں ہے لیکن ہم مذاکرات یا جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں‘ (فوٹو: اے پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غلط رویہ اختیار کیا تو دوبارہ حملے شروع ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کو ایران کے ساتھ معاہدے کے تصور کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ اس کے بارے میں حتمی عبارت کا انتظار کر رہے ہیں۔
ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے سنیچر کو کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی جانے والی تجویز کو مان لیا جائے تو آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کھل جائے گی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ختم ہو جائے گی جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں ہو سکتی ہے۔
فلوریڈا کے ریسٹ بیچ پر میامی کے لیے جہاز میں سوار ہونے سے قبل جب صدر ٹرمپ سے ایران کی جانب سے آنے والی تجویز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے مجھے معاہدے کے تصور کے بارے میں بتایا ہے اب وہ مجھے اس کے حتمی الفاظ بتائیں گے۔‘
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا چینل پر ایک بیان میں کہا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ تجاویز قابل قبول ہوں گی اور ایران نے جو کچھ کیا ہے اس کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
اس سوال کہ ’ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں؟‘ کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا میرا مطلب ہے کہ یہ میں کسی رپورٹر کو نہیں بتا سکتا۔‘
تاہم آگے انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ (ایرانی) بدتمیزی کرتے ہیں اور برا رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہم ان کو دیکھ لیں گے، یہ ایک ایسا امکان ہے جو ہو بھی سکتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ اس سے قبل کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

شیئر: