Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کی ایرانی خریدنے والی چینی ریفائنریز پر پابندیاں، ’نہیں مانیں گے‘

امریکی صدر رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کریں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین نے امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل خریدنے والی پانچ فرمز پر پابندی کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ کی وزارت تجارت نے سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ’ایسی پابندیاں جو چین کے کاروباری اداروں کو دوسرے ممالک کو اقتصادی، تجارتی اور دوسری متعلقہ سرگرمیوں سے روکتی یا محدود کرتی ہیں، وہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی ہیں۔‘
چین ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے خصوصاً اس کی آزاد ریفائنریز جن کو ’ٹی پاٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، اسلامی جمہوریہ سے رعایتی نرخوں پر حاصل ہونے والے خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔
امریکہ ایران کی آمدنی کو روکنا چاہتا ہے اور ایسی ریفائنریز پر پابندیوں کے سلسلے کو تیز کر رہا ہے۔
ایسی پابندیوں کے حوالے سے پچھلے برس چین نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا امریکی اقدامات کو تسلیم یا نافذ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی تعمیل کی جائے گی۔
بیجنگ کے مطابق ’حکومت مستقل طور پر یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوام متحدہ کی اجازت اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد نہیں رکھتیں۔‘
امریکہ کی جانب سے شینڈونگ جنچنگ پیٹروکیمیکلز گروپ، شاگوانگ لیوکنگ، شینزنگ کیمیکل، ہنگلی پیٹروکیمیکلز اور ہیبی زینہے گروپ پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
یہ تازہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے سفارتی تعلقات تعطل کا شکار ہیں اور اس تنازع کا بظاہر کوئی حل بھی دکھائی نہیں دے رہا۔
یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد جنگ چھڑ گئی اور جنگ بندی کی مدت ختم ہونے بعد جنگ فی الحال رکی ہوئی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ بھی کرنے والے ہیں جس میں ان کی چینی صدر صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہو گی اور مختلف امور پر بات چیت کی جائے گی۔

https://www.youtube.com/@UrduNewsCom

 

شیئر: