Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کا امریکی و اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی یونیورسٹی کی جگہ کو ’جنگی میوزیم‘ بنانے کا منصوبہ

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان آٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی حکام نے وسطی ایران کی ایک یونیورسٹی میں بمباری سے متاثرہ جگہ کو امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے اثرات سے متعلق ایک میوزیم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
صنعتی یونیورسٹی برائے اصفہان کے سربراہ ظفر اللہ کلانتری نے سنیچر کو کہا کہ ’موجودہ تباہ شدہ جگہ کو یونیورسٹی میں 'جنگی میوزیم' کے طور پر محفوظ کیا جائے گا تاکہ یہ تاریخ میں ملک پر ہونے والے سائنسی جبر کی ایک دستاویز کے طور پر باقی رہے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے لیے ’نئی عمارت کی تعمیر اور جدید آلات کی فراہمی‘ کے لیے دیگر اراضی مختص کر دی گئی ہے۔
ظفر اللہ کلانتری کا کہنا تھا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق یونیورسٹی کی عمارتوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ قریباً 11 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
اصفہان میں واقع اس ادارے کو مارچ میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا ۔ یہ حملے ایک ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کا حصہ تھے اور بعد ازاں یہ پورے خطے میں پھیل گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں دارالحکومت تہران سمیت پورے ایران میں 30 سے زائد یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں اور دیگر سویلین انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 8 اپریل سے امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے۔

شیئر: