Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانوی وزیرِاعظم کی فلسطین نواز مظاہروں کو محدود کرنے کی دھمکی آزادیِ اظہار پر حملہ قرار

سٹاپ دی وار کولیشن کے شریک بانی جان ریس نے کہا کہ سٹارمر کے بیانات برطانیہ میں اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کی جڑ پر ضرب لگاتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف کچھ مظاہروں پر پابندی لگانے کی دھمکی کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق شہری سول سوسائٹی، جنگ مخالف اور انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے کیئر سٹارمر کو تنقید کا نشانہ بنایا، جب انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع ہیں کہ وہ فلسطین کے حق میں مظاہروں کو مکمل طور پر روکنے کی تجویز دے سکتے ہیں۔
انہوں نے ہفتے کے روز بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں کہا کہ وہ مظاہروں میں استعمال ہونے والے بعض نعروں کے خلاف زیادہ سخت کارروائی چاہتے ہیں، جن میں انتفادہ کو عالمی سطح پر پھیلانے کے مطالبات شامل ہیں۔
سٹاپ دی وار کولیشن کے شریک بانی اور عہدیدار جان ریس نے کہا کہ سٹارمر کے بیانات برطانیہ میں اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کی جڑ پر ضرب لگاتے ہیں۔ سٹاپ دی وار کولیشن نے لندن میں بڑے فلسطین نواز مظاہروں کا انعقاد کیا ہے۔
جان ریس نے سکائی نیوز کو بتایا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ اس ملک کے لوگ یہ کہیں گے کہ ‘ہم نے ایک بار کوشش کی اور وہ ناکام رہی، لہٰذا اب ہم گھر جا رہے ہیں۔‘
’جب تک جنگیں جاری رہیں گی، جب تک قتل و غارت جاری رہے گی، لوگ اس حکومت سے کہتے رہیں گے کہ آپ اس میں شریک ہیں اور آپ کو اسے روکنا چاہیے۔ ماور وہ اسرائیلی حکومت سے بھی کہیں گے کہ آپ مشرقِ وسطیٰ کو آگ میں جھونک رہے ہیں۔ اب اس کے اثرات نہ صرف فلسطینیوں کی زندگیوں پر بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے روزگار پر بھی پڑ رہے ہیں، اور آپ کو اسے روکنا چاہیے۔‘
جان ریس کے مطابق 2023 سے ہر ہفتے ہونے والے ان مظاہروں میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد میں سے صرف ’نہایت قلیل تعداد‘ کو ہی ایسے جرائم پر گرفتار کیا گیا ہے جیسے حماس کی حمایت۔
انہوں نے کہا کہ جب مارچ کے منتظمین کو ’نامناسب نعرے‘ سنائی دیتے ہیں تو وہ لوگوں سے انہیں استعمال نہ کرنے کا کہتے ہیں، اور عموماً لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کیمی بیڈنوک نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے حق میں مارچوں پر مکمل پابندی لگائی جائے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ یہودیوں کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کو فروغ دینے کے لیے پردہ بن جاتے ہیں۔
جان ریس نے کہا: ’ہمیں یہاں بالکل واضح ہونا چاہیے: ان مارچوں سے یہودی برادری کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ درحقیقت، ان میں ہزاروں یہودی افراد بھی شریک ہوتے ہیں جو حکومت اور اسرائیلی ریاست کے اقدامات سے متفق نہیں ہیں۔‘
جان ریس نے مزید کہا کہ سٹارمر کی جانب سے فلسطین نواز مارچوں کو یہودی افراد پر حملوں سے جوڑنے کی کوشش ایسا ظاہر کرتی ہے جیسے دونوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق ہو، حالانکہ ایسا کوئی تعلق موجود نہیں۔

شیئر: