برطانیہ نے ممکنہ آبنائے ہرمز مشن کے پیشِ نظر جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا
ایچ ایم ایس ڈریگون مارچ میں، ایران جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد، مشرقی بحیرۂ روم بھیجا گیا تھا۔ (فوٹو: روئٹرز)
برطانیہ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ اپنا جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے تاکہ حالات سازگار ہونے پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ممکنہ کثیر القومی مشن کی تیاری کی جا سکے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فضائی دفاعی صلاحیت رکھنے والا ڈسٹرائر ایچ ایم ایس ڈریگن مارچ میں، ایران جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد، مشرقی بحیرۂ روم بھیجا گیا تھا تاکہ قبرص کے دفاع میں مدد دی جا سکے۔
اسے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کا فیصلہ فرانس کی جانب سے اپنے کیریئر سٹرائیک گروپ کو جنوبی بحیرۂ احمر میں تعینات کرنے کے بعد سامنے آیا، کیونکہ دونوں ممالک تجارتی بحری راستے پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک دفاعی منصوبے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ’ایچ ایم ایس ڈریگن کی پیشگی تعیناتی محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ برطانیہ، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی اتحاد کے حصے کے طور پر، حالات سازگار ہونے پر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہو۔‘
جیسے جیسے امریکہ اور ایران اپنی دس ہفتوں پر محیط جنگ کے ممکنہ خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں، فرانس اور برطانیہ ایک ایسی تجویز پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد صورتحال مستحکم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی بنیاد رکھنا ہے۔
اس منصوبے کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ کاری ضروری ہوگی، جبکہ تقریباً ایک درجن ممالک نے اس میں حصہ لینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم کسی بھی حفاظتی مشن میں برطانیہ کی شرکت اس کی محدود بحری صلاحیتوں سے متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ رائل نیوی اب ماضی کے مقابلے میں کہیں چھوٹی ہو چکی ہے، اور اسے بعض جہاز نئے متبادل دستیاب ہونے سے پہلے ہی ریٹائر کرنا پڑے ہیں۔
