Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی ’ناقابلِ قبول‘ شرائط مسترد کر دیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو مشرق وسطی کی جنگ کے خاتمے لیے ایران کی شرائط کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کردیا،جس سے ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد تنازع دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
خود ٹرمپ نے ایران کی شرائط کی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن ٹروتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر پوسٹ میں واضح کیا کہ وہ انہیں مسترد کر رہے ہیں۔
انہوں نے پوسٹ میں لکھا’ ایران کے ’نام نہاد نمائندوں‘ کی طرف سے جواب پڑھا ہے، مجھے یہ پسند نہیں آیا، قطعی ناقابل قبول! اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ۔‘
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ امن تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب ارسال کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاہم تہران نے متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے امریکی حملے کا بھرپور جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کا یہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجا کیا گیا اور اس جواب کا ’مرکزی نکتہ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ہے بالخصوص لبنان میں جہاں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔‘
اس کے علاوہ ایران نے ’بحری جہاز رانی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے‘ پر بھی زور دیا ہے۔
امریکہ ایران کے درمیان ثالثی کرنے والے ملک پاکستان وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اتوار کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ایرانی جواب کے موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آج ابھی ابھی مجھے فیلڈ مارشل عاصم منیر بتا رہے تھے کہ ایران کے پرائم منسٹر کا جواب موصول ہو گیا ہے اور میں (اس وقت) اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا۔‘
اس سے قبل فرانسیسی نشریاتی ادارے ایل سی آئی کی مارگوٹ حداد نے سنیچر کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے مختصر انٹرویو میں بتایا کہ انہیں ایران کے جواب کی بہت جلد توقع ہے، تاہم اس طویل انتظار کے دوران خلیج میں جنگ بندی کے معاہدے پر دباؤ بڑھتا گیا۔
ایک ماہ پرانی جنگ بندی اور 48 گھنٹوں کے نسبتاً سکون کے بعد اتوار کے روز کئی خلیجی ممالک کی فضائی حدود میں ڈرون دیکھے گئے جس نے خطے کو درپیش مسلسل خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ان خطرات کے باوجود ’قطر انرجی‘ کا ایل این جی بردار جہاز ’الخريطيات‘ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر کر پاکستان کی پورٹ قاسم کی جانب رواں دواں ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آج فون پر ایرانی جواب پر تبادلہ خیال کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)

جہاز رانی کے تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد یہ قطر کا پہلا بحری جہاز ہے جس نے اس اہم آبی گزرگاہ کو عبور کیا ہے۔
روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے پاکستان اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے اس جہاز کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔
اب مزید ہنسی نہیں چلے گی: ٹرمپ کا ایران کو انتباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو تہران پر ’کھیل کھیلنے‘ اور دہائیوں سے امریکہ پر ہنسنے کا الزام لگایا۔
واشنگٹن کی امن تجویز پر ایران کے جواب سے متعلق براہِ راست تبصرہ کیے بغیر انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایران 47 سال سے صرف تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے لیکن اب اسے روک دیا جائے گا۔ وہ ہمارے ملک پر ہنس رہے تھے لیکن اب مزید ایسا نہیں چلے گا!۔‘
اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آج فون پر ایرانی جواب پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دورہ چین سے قبل جنگ کے خاتمے کا دباؤ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے دورہ چین سے قبل جنگ کے خاتمے کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ اس تنازع نے توانائی کا عالمی بحران پیدا کر دیا ہے جو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی جہازوں کی آمد و رفت روک رکھی ہے جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی کل تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ ’وہ شکست کھا چکے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ختم ہو گئے ہیں۔‘
دوسری جانب نیتن یاہو کا موقف ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم کے خاتمے، جوہری تنصیبات کی تباہی اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکنے تک جنگ ختم نہیں ہوئی۔
انہوں نے ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بہترین راستہ سفارت کاری ہے لیکن وہ طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔

ایران نے آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی جہازوں کی آمد و رفت روک رکھی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ نے گزشتہ ماہ ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی کی تھی، تاہم ایران نے اس جنگ کے خاتمے کی اپیلوں پر جواب دینے میں کافی وقت لیا ہے۔
امریکہ کو اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر بھی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ نیٹو اتحادیوں نے مکمل امن معاہدے اور بین الاقوامی مینڈیٹ کے بغیر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک مشن پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت برطانیہ نے ایک جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ ’تحفظ‘ کے بہانے برطانوی یا فرانسیسی جہازوں کی تعیناتی اشتعال انگیزی تصور کی جائے گی اور اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔
جواب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی مشن کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کا ارادہ آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کے لیے فوجی تعیناتی کا نہیں ہے۔

 

شیئر: