چیک ریپبلک کے چرچ سے سینٹ کی 800 برس پرانی کھوپڑی چوری
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ پراگ شہر کے شمال میں واقع علاقے کے ایک چرچ میں پیش آیا (فوٹو: روئٹرز)
چیک ریپبلک میں ایک چور چرچ کے اندر ڈسپلے بکس میں رکھی گئی 800 سال پرانی ایک کھوپڑی لے گیا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ کھوپڑی لیمبرک کے سینٹ زی ڈسلوا کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کو پراگ شہر کے ایک دور افتادہ علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک شخص چرچ میں داخل ہوا اور اس کے بعد کھوپڑی غائب ہو گئی۔
واقعے کی ایک دھندلی سی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں سیاہ لباس پہنے ایک شخص دکھائی دیتا ہے اور وہ ہاتھ میں کچھ لیے بینچوں کے درمیان بھاگتا ہوا نظر آتا ہے، اس چیز کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لیمبرک کے سینٹ زی ڈسلوا کی کھوپڑی ہے اور وہ منظر جیبلونی وی پوڈجیسٹڈی کے علاقے کے چرچ کے ہیں جو کہ پراگ شہر سے قریباً 110 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق لیمبرک کے سینٹ زی ڈسلوا 1220 سے 1252 تک زندہ رہے اور وہ اپنی سخاوت اور غریبوں کی فلاح کے لیے کیے گئے کاموں کی وجہ سے جانتے جاتے تھے، ان کو 1995 میں پوپ جان پال دوم نے اہم مذہبی شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
پراگ کے آرچ بشپ سٹینسیلا پریبل نے خبر رساں ایجنسی سی ٹی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت افسوس ناک خبر ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ کھوپڑی وہاں آنے والوں کے لیے بہت مقدس تھی، مجھے یقین نہیں آرہا کہ کوئی شخص دن دیہاڑے ایک چرچ سے ایسی مقدس چوری کو چوری کر سکتا ہے جو صرف تاریخی ہی نہیں بلکہ مذہبی اعتبار سے بہت احترام کی حامل تھی۔‘
پولیس کی جانب سے قبل ازیں چور کی نشان دہی ایک مرد کے طور پر کی گئی تھی، تاہم بعدازاں ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ بات حتمی طور پر یقینی نہیں ہے یعنی وہ کوئی خاتون بھی ہو سکتی ہے جبکہ سکیورٹی کیمروں سے حاصل کیے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشکوک شخص کا پتا چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
