Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آم کا سیزن شروع، جازان میں زرعی سیاحت کو کیوں فروغ دیا جا رہا ہے؟

جازان ریجن میں آموں کا سیزن صرف ایک روایتی زرعی کاشت کی حثییت نہیں رکھتا بلکہ یہ گرمیوں کا ایک ایسا تجربہ ہے جو دیہی سیاحت، مقامی معیشت اور اُن تخلیقی پروڈکٹس کو یکجا کر دیتا ہے جو علاقے کے مشہور ترین موسمی پھلوں میں شمار ہوتی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق موسمِ گرما کے دوران جازان میں آم کے کھیتوں کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اِن میں فیمیلیاں بھی شامل ہوتی ہیں اور وہ افراد بھی جو زراعت کے تجربات کے شوقین ہوتے ہیں۔
اب یہ کھیت ’زرعی سیاحت‘ کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں جہاں آنے والوں کو آموں کی کاشت کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اِس کے علاوہ تعارفی دوروں کا بھی انعقاد کرایا جاتا ہے تاکہ مہمان، آم کی کاشت کے مختلف مراحل سے واقف ہو سکیں اور درختوں کی حفاظت اور کھیتوں سے آم چُننے کی طریقے سیکھ سکیں۔
کچھ کھیتوں میں مالکان نے جدید تجربات شروع کیے ہیں جن میں آموں کے باغات کے عین درمیان، نشستوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ کئی کھیتوں میں درختوں کے درمیان چلنے کے راستے اور آموں کی مقامی اقسام کو چکھنے کے لیے خصوصی کارنر بھی بنائے گئے ہیں۔  
 آموں سے حاصل ہونے والی مختلف پروڈکٹس کی نمائش کے لیے دکانوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے تاکہ آنے والوں کو ایسا تجربہ حاصل ہو سکے جس سے وہ اِن زرعی پروڈکٹس کو پائیدار معاشی اور سیاحتی اہمیت کی اشیا میں تبدیل کر سکیں۔

جازان کے آموں کو بڑی مارکٹیوں تک پہچانے کے لیے گرمیوں میں ایک نمایاں طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے جو اب ٹرینڈ کی صورت میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اِس طریقے میں آموں کی رسائی کو وسعت دینے کے لیے کئی کاشتکاروں نے جدید ٹیکنالوجیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے علاوہ آن لائن سٹور اور آم کے کھیتوں سے لائیو براڈکاسٹ کا انتظام کر رکھا ہے۔
ریجن میں وزارتِ ماحولیات، آب اور زراعت کی برانچ کے مطابق، جازان کا آم، اب محض موسمی فصل نہیں بلکہ ایک مربوط تعمیری منصوبے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے سرمایہ کاری، سیاحت اور خوراک حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ دیہی سیاحت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے جو مقامی پروڈکٹس کے کسی علاقے سے منسوب ہونے کی وجہ سے شہرت حاصل کر لیتی ہیں۔

جازان، آم 60 سے زیادہ اقسام کے باعث خاص طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہاں دس لاکھ درخت ہیں جو سالانہ 65000 ٹن آم پیدا کرتے ہیں اور گرمیوں میں آموں کی کاشت والے علاقے کو سب سے اہم زرعی، معاشی اور سیاحتی سیزن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

شیئر: