امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچ گئے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک نہایت اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان موجود تناؤ کو کم کرنا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی بھی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ ہے جس کا آغاز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ واشنگٹن سے طویل پرواز کے بعد رات 7 بج کر 50 منٹ پر بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر فورس ون سے اترے۔
دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے درمیان اس انتہائی اہم ملاقات پر ایران، تجارت اور تائیوان سے متعلق تنازعات کے سایے منڈلا رہے ہیں۔ یہ ملاقات مارچ میں ملتوی کی گئی تھی کیونکہ اُس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جاری تھی۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ چینی طلبا کے ویزے منسوخ کرنا شروع کر دے گا: مارکو روبیوNode ID: 890319
تاہم صدر ٹرمپ کی زیادہ توجہ کاروباری معاہدوں پر دکھائی دی۔ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ آخری وقت میں الاسکا سے طیارے پر سوار ہوئے جبکہ ٹیسلا کے ایلون مسک بھی صدارتی طیارے میں سفر کر رہے تھے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ کے تیز ہونے کے ساتھ ہی چین اس وقت جدید ترین چِپس خریدنے سے محروم ہے جو ہوانگ نامی کمپنی امریکی برآمدی قوانین کے تحت تیار کرتی ہے اور ان کی برآمد پر پابندی عائد ہے کیونکہ امریکہ اس معاملے کو قومی سلامتی سے منسلک کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سفر کے دوران سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ صدر شی سے درخواست کریں گے کہ وہ چین کو ’کھول دیں‘ تاکہ یہ ذہین لوگ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ انہوں نے صدر شی کو ’انتہائی غیر معمولی قائد‘ بھی قرار دیا۔
اپنی پہلی مدتِ صدارت میں 2017 کے بعد چین کا دورہ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے توقع ہے کہ چینی حکام کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا اور ان کا شیڈول بھی انتہائی مصروف ہوگا۔
ٹرمپ اور شی جمعرات کی صبح 10 بجے بیجنگ کے شاندار گریٹ ہال آف دی پیپل میں مذاکرات کریں گے، جہاں شام کو ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دی جائے گی۔
دونوں رہنما جمعہ کے روز چائے پر ملاقات اور ورکنگ لنچ کریں گے، جس کے بعد امریکی صدر وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں صدر شی کے ساتھ ایران سے متعلق ایک طویل گفتگو کی توقع ہے، کیونکہ اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں اور ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنا تیل چین کو فروخت کر رہا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اختلافات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ایران کے معاملے میں ہمیں چین کی کسی مدد کی ضرورت ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ صدر شی اس معاملے پر ’کافی حد تک معاون‘ ثابت ہوئے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ ٹرمپ کے دورے کا خیرمقدم کرتی ہے اور چین امریکہ کے ساتھ ’تعاون بڑھانے اور اختلافات کو بہتر طریقے سے حل کرنے‘ کے لیے تیار ہے۔
’بڑا معاہدہ ہونے کا امکان‘
تاہم بیجنگ میں امن کے لیے بے چینی بڑھ رہی ہے۔ وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب پر زور دیا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز کریں۔
ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ صدر شی سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر بھی بات کریں گے، جو چین کے دعوے کے مطابق اس کی خودمختار ریاست ہے۔ یہ امریکی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ روایتی طور پر امریکہ اس معاملے پر چین سے مشاورت سے گریز کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے جاری تجارتی کشیدگی بھی ایجنڈے میں شامل ہے، کیونکہ گزشتہ سال صدر ٹرمپ کے وسیع محصولات نے جوابی محصولات کو جنم دیا تھا جو 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گئے۔
صدر ٹرمپ اور صدر شی ایک سالہ ٹیرف جنگ بندی میں توسیع پر بات کریں گے، جو ان کی آخری ملاقات کے دوران جنوبی کوریا میں اکتوبر میں طے پائی تھی، تاہم کسی حتمی معاہدے کا امکان ابھی واضح نہیں۔
چین کی نایاب معدنیات اور زرعی برآمدات پر پابندیاں بھی بات چیت کا حصہ ہوں گی۔

اجلاس سے پہلے بیجنگ کی سڑکوں پر سخت سکیورٹی دکھائی دی، پولیس اہم چوراہوں کی نگرانی کر رہی تھی اور میٹرو میں مسافروں کے شناختی کارڈ بھی چیک کیے جا رہے تھے۔
ننجنگ سے آنے والی 24 سالہ خاتون وین وین نے خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ یقیناً ایک بڑا معاملہ ہے۔‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوگی اور چین و امریکہ ’عالمی صورتِ حال میں حالیہ عدم استحکام‘ کے باوجود ’دیرپا امن‘ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بارہا صدر شی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو مضبوط قرار دیا ہے اور پیر کے روز بھی یہ کہا تھا کہ یہ تعلق ہی تائیوان پر چین کے حملے کو روک سکتا ہے۔
ٹرمپ کے اس دورے کو تائیوان اور اس کے ایشیائی اتحادی ممالک باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ کہیں امریکہ کی حمایت سے کسی کمزوری کا اشارہ تو نہیں مل رہا۔












