Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کا دورۂ چین، ایلون مسک، ٹِم کُک اور بوئنگ کے سی ای او ساتھ کیوں جا رہے ہیں؟

بوئنگ کمپنی کے سی ای او کیلی اورٹبرگ کا دورے کے وفد کا حصہ ہوں گے (فوٹو: ایوی ایشن ویک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے چین کا دورہ کرنے والے ہیں، جس میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک نمایاں ترین شخصیات بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس سے منسلک ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان میں دنیا کے امیر ترین شخص اور ایکس کمپنیز کے مالک ایلون مسک کے علاوہ ایپل کے سی ای او ٹِم کُک، جی ای ایئرو سپیس کے ایگزیکٹیو لیری کلپ اور بوئنگ کے مالک کیلی اورٹبرگ شامل ہیں۔
سرکاری اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا تھا کہ میٹا کے پاول میک کارمک، بلیک راکے لیری فنک، بلیک سٹون کے سٹیفن شیوارزمین، مائیکرون کے سنجے ملہوترا، ماسٹر کارڈ کے مائیکل میباچ کے علاوہ کوالکوم کے کرسٹیانیو ایمون اور ویزا کے ریان مکینرنی بھی شامل ہیں۔
اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے حکام دونوں کی ٹریڈ وار کے ضمن کی گئی اس ’جنگ بندی‘ کو بڑھانے کے حوالے سے بھی مشاورت کریں گے جس کی بدولت نایاب معدنیات چین سے امریکہ پہنچ سکتی ہیں تاہم یہ امر ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے میں توسیع ہو گی یا نہیں۔
کیلی ارٹبرگ نے اپریل میں روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بوئنگ کمپنی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے یہ امید رکھتی ہے کہ اس کی پالیسی کی بدولت طویل انتظار کے بعد چین کی جانب سے بڑے آرڈ ملنے میں مدد ملے گی۔
چین اور امریکی جہاز ساز ادارہ ایک معاہدے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں 500 میکس جیٹس اور درجنوں وائیڈ باڈی جیٹس شامل ہیں جن کے انجن جی کمپنی بناتی ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ 2017 کے بعد سے ملک کے لیے سب سے بڑا بوئنگ کا آرڈر ہو گا اور اس کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے آخری ملاقات پچھلے برس اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہوئی تھی جہاں دونوں رہنماؤں نے اس تجارتی جنگ کو روکنے پر اتفاق کیا تھا جس میں صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر تین ہندسوں تک کا ٹیکس لگایا تھا جبکہ بیجنگ نے نایاب معدنیات کی فراہمی محدود کرنے کی دھمکی دی تھی۔

 

شیئر: