Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انتہا پسند ہندو جماعت آر ایس ایس کی پاکستان کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی حمایت

آر ایس ایس کے دوسرے اہم ترین رہنما دتاتریہ ہوسابلے نے کہا کہ حکومت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں (فوٹو: روئٹرز)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابلے نے منگل کے روز کہا کہ انڈیا کو پاکستان اور اس کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے خلاف مضبوط ردِعمل جاری رکھنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ وہ تنظیم میں موہن بھاگوت کے بعد دوسرے اہم ترین رہنما ہیں۔
انہوں نے انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو دیے گئے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق واجپائی نے ایک طرف دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، تو دوسری طرف سفارتی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ واجپائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کے لیے بس کے ذریعے لاہور گئے تھے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہا کہ ’اب تک بہت کچھ آزمایا جا چکا ہے، لیکن ایسی مزید کوششیں جاری رہنی چاہییں۔ اٹل جی نے مذاکرات کے ذریعے بات چیت کی کوشش کی۔ وہ بس کے ذریعے لاہور گئے، اور یوں بہت اہم پیش رفت ہوئی۔ ہمارے موجودہ وزیر اعظم نے بھی اپنی حلف برداری کے موقع پر پاکستانی قیادت کو مدعو کیا تھا۔‘
دتاتریہ ہوسبالے نے کہا کہ ’پاکستان اگر پلواما جیسے واقعات کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ہمیں حالات کے مطابق مناسب جواب دینا ہوگا، کیونکہ کسی بھی ملک اور قوم کی سلامتی اور خودداری کا تحفظ ضروری ہے، اور حکومت کو اس کا نوٹس لے کر مناسب اقدامات کرنے چاہییں۔‘
انہوں نے اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ ’انڈیا کو تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں کرنے چاہییں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسی لیے سفارتی تعلقات برقرار رکھے جاتے ہیں، تجارت جاری رہتی ہے، اور ویزے بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان چیزوں کو بند نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بات چیت کے لیے ایک راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات بھی جاری رہنے چاہییں۔
انہوں نے کھیلوں کے ممکنہ تبادلوں کی بحالی کو امید کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہی ایک امید ہے، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ عوامی سطح کے تعلقات ہی بالآخر کام آئیں گے۔ ہمارے درمیان ثقافتی رشتہ موجود ہے اور ہم کبھی ایک قوم بھی رہے ہیں۔‘
دتاتریہ ہوسابلے نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے، تاہم مذاکرات کی گنجائش برقرار رہنی چاہیے۔
آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں آپریشن سندور بھی شروع کیا گیا۔

 

شیئر: