سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں پاکستانی مشنز میں پاسپورٹ سروسز معطل کیوں کی گئیں؟
سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں پاکستانی مشنز میں پاسپورٹ سروسز معطل کیوں کی گئیں؟
اتوار 3 مئی 2026 18:41
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز نے مطلع کیا ہے کہ اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث پاسپورٹ کے اجرا کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
پاسپورٹ سروسز کی اس اچانک معطلی سے ان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے جن کے ویزوں یا اقاموں کی میعاد ختم ہو رہی ہے، یا جنہیں ہنگامی بنیادوں پر وطن واپسی کے لیے اپنے پاسپورٹ کی تجدید درکار ہے۔
اسلام آباد میں محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ اس وقت ’ڈیٹا پروسیسنگ‘ میں کچھ فنی رکاوٹیں درپیش ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر میں ٹیکنیکل ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو آئندہ ایک سے دو روز میں حل کر لیا جائے گا۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا پاسپورٹ کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے ’سروس پرووائڈر‘ کمپنی کی تبدیلی اس تعطل کا سبب بنی ہے، تو انہوں نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی تبدیلی ایک ’انتظامی عمل‘ ہے جس کا موجودہ فنی خرابی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب پاسپورٹ آفس کے ایک ذریعے نے یہ بھی بتایا ہے کہ محکمے کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے واجب الادا فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے۔ ان مالی مسائل کی وجہ سے بیرونِ ملک مشنز میں تعینات عملے کی تنخواہوں میں تاخیر جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔
تاہم، حکام نے ان خدشات کو مسترد کیا ہے کہ پاسپورٹ سروسز کی حالیہ معطلی کا ملازمین کے کسی احتجاج یا تنخواہوں کے مسئلے سے کوئی تعلق ہے، بلکہ اسے صرف ایک 'فنی خرابی' قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفارتی مشنز صرف ایک دفتر نہیں بلکہ ان کی قانونی شناخت کا واحد ذریعہ ہیں۔ یہاں نہ صرف مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (ایم آر پی) کی تجدید کی جاتی ہے بلکہ نوزائیدہ بچوں کے پہلے پاسپورٹ اور گمشدہ دستاویزات کے متبادل کا اندراج بھی ہوتا ہے۔
ان مشنز میں نصب بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا براہِ راست اسلام آباد بھیجا جاتا ہے، اور اب اسی رابطے کے منقطع ہونے سے سارا عمل رک گیا ہے۔
’سمندر پار پاکستانیوں کے لیے قانونی اور انتظامی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں‘
امیگریشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ سروسز کی بحالی میں تاخیر سمندر پار پاکستانیوں کے لیے کئی قانونی اور انتظامی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو سال 2024 تک پاسپورٹ کی تیاری میں ایک بڑے 'بیک لاگ' کا سامنا رہا ہے۔ (فوٹو: اے پی پی)
اسلام آباد میں مقیم امیگریشن کے ماہر خرم الہیٰ کے مطابق، جن لوگوں کے اقاموں کی میعاد ختم ہو رہی ہے وہ پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف بھاری جرمانوں بلکہ ملازمتوں سے محرومی کے خطرے سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔
خرم الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ہنگامی حالات میں وطن واپسی کے منتظر افراد کے لیے یہ تعطل شدید مشکلات کا باعث بنے گا۔
ان کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف شہریوں کی پریشانی بڑھے گی بلکہ پاسپورٹ آفس کو ایک بار پھر اس 'بیک لاگ' کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جسے ختم کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں غیر معمولی کوششیں کی گئی تھیں۔
یاد رہے کہ محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو سال 2024 تک پاسپورٹ کی تیاری میں ایک بڑے 'بیک لاگ' کا سامنا رہا ہے، جس پر بعد میں جدید مشینری کی خریداری اور انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو پایا گیا تھا۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ تعطل کے باعث پاسپورٹ کے اجرا میں ایک بار پھر تاخیر اور کام کے بوجھ میں اضافے جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔