Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کثیر القومی اتحاد کے کمانڈ کے لیے اہم انتظامات مکمل، پہلا ڈپٹی کمانڈر پاکستان سے ہوگا

سعودی وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد نے اپنے کمانڈ سٹرکچر کو فعال کرنے کے لیے اہم انتظامات مکمل کر لیے۔
وزارت کے مطابق رکن ملکوں کے افسران اور عملے کو اتحاد کے کمانڈ، میری ٹائم اور انٹیلی جنس آپریشنز میں شامل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ اعلان جدہ میں ویسٹرن فلیٹ کمانڈ میں منعقدہ کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے تیسرے پلاننگ اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں 39 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزارت کے مطابق اب تک 15 ملکوں نے اتحاد کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جبکہ 13 نے باقاعدہ رکن بننے کے لیے درکار داخلی قانونی طریقہ کار مکمل کر لیا۔
دیگر شریک ممالک بھی شمولیت کے لیے ضروری قومی طریقہ کار مکمل کر رہے ہیں۔
اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اتحاد کا پہلا ڈپٹی کمانڈر پاکستان سے ہوگا۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشھری کو اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

اتحاد نے اپنے ہیڈ کوارٹر کا بھی تعین کر لیا۔ اس کے ساتھ آفیشل لوگو کی منظوری دی گئی ہے۔ کام کا آغاز کرنے کے لیے درکار آرگنائزیشنل اور پلاننگ فریم ورک بھی مکمل کر لیے گئے۔
وزارت دفاع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اتحاد کی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانا اور اپنی ذمہ داری کے علاقے میں دفاعی مشنز انجام دینے کے لیے تیاریوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں یہ اتحاد فریڈم آف نیویگیشن، شپنگ روٹس اور سٹریٹیجک آبی گزر گاہوں کے تحفظ کو برقرار رکھنے ساتھ بین الاقوامی تجارت اور عالمی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے ایک مستقل کثیرالقومی دفاعی فریم ورک تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی اہم آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کو بڑھتے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب اور دیگر 13 ملکوں نے گزشتہ ماہ ایک بحری دفاعی اتحاد قائم کرے کا اعلان کیا تھا۔
 اتحاد کے بانی ارکان میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، جبوتی، بنگلہ دیش، سوڈان، نائیجر اور صومالیہ شامل ہیں۔

 مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ یہ اتحاد بحری دفاعی تعاون کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر کام کرے گا۔ جس کا مقصد اقوام متحدہ کے کنونشنز اور بین الاقوامی روایات کے مطابق میری ٹائم سکیورٹی کو بڑھانا، فریڈم آف نیویگیشن کا تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی و توانائی کے راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہے۔
اتحاد کے کمانڈر ریئر ایڈمرل عبداللہ سالم الشھری نے بتایا تھا کہ اتحاد میں شمولیت کے خواہش مند ممالک کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

 

شیئر: