Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ، مسافروں کو کون سی جدید سہولیات حاصل ہو جائیں گی؟

آؤٹ سورسنگ سے جدید ترین چیک اِن کاؤنٹرز اور مسافروں کے لیے آرام دہ لاؤنجز دستیاب ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی نجکاری کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے نجکاری کمیشن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے باقاعدہ فائنانشل ایڈوائزر کا تقرر کر دیا ہے۔ 
اس اہم پیش رفت کے بعد ملک کے اِن دو مصروف ترین ہوائی اڈوں کے انتظامی امور کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عملی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ 
سول ایوی ایشن ماہرین کے مطابق فائنانشل ایڈوائز کی تعیناتی کے بعد عملی طور پر اس پورے پیچیدہ مرحلے کا سب سے اہم اور بنیادی سنگِ میل طے ہو چکا ہے۔ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فائنانشل ایڈوائزر کا اصل کام کیا ہوگا اور اس کے بعد اس منصوبے کا کتنا سفر باقی رہتا ہے؟ اس حوالے سے سول ایوی ایشن کے ماہر افسر ملک نے اردو نیوز کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ آسان الفاظ میں مقررکردہ ایڈوائزر کا بنیادی کام دونوں ایئرپورٹس کے مالیاتی اثاثوں کی قدر کا تعین کرنا اور آنے والے برسوں کے دوران ممکنہ آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ لگانا ہے۔
افسر ملک مزید کہتے ہیں کہ فائنانشل ایڈوائزر کا کام ایک ایسا معاشی و قانونی ماڈل تیار کرنا ہے جس کے تحت بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں سے بولیاں طلب کی جا سکیں اور یہ عمل چند دنوں نہیں بلکہ چند ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔ 
ان کے مطابق فائنانشل ایڈوائزر کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد بین الاقوامی سطح پر ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے، تکنیکی اور مالیاتی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور پھر سب سے بہتر بولی دہندہ کے ساتھ معاہدہ طے پائے گا۔
’یہ تمام عمل، جو کہ دراصل گذشتہ برس اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کے ساتھ شروع ہوا تھا، آئندہ چھ سے نو ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ‘
مسافروں اور عام شہریوں کے ذہنوں میں سب سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد ایئرپورٹس پر کیا کچھ بدل جائے گا اور کیا کچھ ویسا ہی رہے گا؟

اس منصوبے کے سامنے ایئرپورٹس کے موجودہ سرکاری ملازمین کا مستقبل اور اُن کے تحفظات اہم چیلنجز ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس سوال کے جواب میں سول ایوی ایشن ماہر ساجد حبیب نے بتایا کہ حکومت ایئرپورٹس کی زمین یا سکیورٹی کو مکمل طور پر نجی ہاتھوں میں نہیں بیچ رہی، بلکہ صرف ان کے تجارتی اور انتظامی امور آؤٹ سورس کر رہی ہے۔
’ایئرپورٹس کا فضائی نظام یعنی ایئر ٹریفک کنٹرول، سول ایوی ایشن اتھارٹی کا بطور ریگولیٹر کردار، ایئرپورٹ سکیورٹی فورس، کسٹمز اور امیگریشن کے شعبے مکمل طور پر حکومتِ پاکستان ہی کے کنٹرول میں رہیں گے اور ان پر کسی نجی کمپنی کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔‘
ساجد حبیب کہتے ہیں کہ اس کے برعکس نجی کمپنی کے حصے میں ٹرمینل بلڈنگ کی دیکھ بھال، کار پارکنگ کا نظام، صفائی سُتھرائی، شاپنگ ایریاز، کھانے پینے کے مراکز، طیاروں کی گراؤنڈ ہینڈلنگ اور کارگو سروسز جیسے امور آئیں گے۔
اس تمام تر تبدیلی کے اثرات براہِ راست ایئرپورٹس استعمال کرنے والے مسافروں پر کس طرح مرتب ہوں گے؟ اگر عالمی مثالوں اور حکومت کے دعوؤں کو دیکھا جائے تو مسافروں کے لیے سب سے بڑی تبدیلی سہولیات کے معیار میں بہتری کی صورت میں سامنے آسکتی ہے۔

ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ نجی کمپنیاں منافع کمانے کے لیے مختلف سروسز پر چارجز بڑھا سکتی ہیں (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)

ایئرپورٹس پر جدید ترین چیک اِن کاؤنٹرز، تیز رفتار سامان کی ترسیل، صفائی کا معیار، عالمی سطح کے برینڈز اور مسافروں کے لیے آرام دہ لاؤنجز کی دستیابی اور دیگر کئی سہولیات حاصل ہو سکتی ہیں۔
تاہم اس خوب صورت تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔ نجی کمپنیاں اپنے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو پورا کرنے اور منافع کمانے کے لیے مختلف سروسز پر چارجز بڑھا سکتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ایئرپورٹ پارکنگ فیس، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر اضافی سہولیات کے نرخوں میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
ایوی ایشن ماہر افسر ملک کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایئرپورٹس کو منافع بخش بنانے اور ان کے معیار کو جدید ترین اور بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے آؤٹ سورسنگ ہی سب سے مؤثر راستہ سمجھا جاتا ہے۔ 
’پاکستان میں ایئرپورٹس کا انتظامی ڈھانچہ طویل عرصے سے زوال پذیر رہا ہے کیونکہ سرکاری شعبہ اتنے بڑے تجارتی اور خدمات کے امور کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘    

ایئر ٹریفک کنٹرول، سی اے اے، اے ایس ایف اور دیگر شعبے بدستور حکومت کے پاس رہیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

افسر ملک کے مطابق اس سارے مرحلے کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی بطور ریگولیٹر نجی کمپنی کی من مانیوں کو کس حد تک کنٹرول میں رکھتی ہے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ اگر سخت ریگولیٹری فریم ورک نہ بنایا گیا تو خدمات میں بہتری کے بجائے صرف نجی اجارہ داری قائم ہونے کا خدشہ رہے گا۔
حکومت کا موقف ہے کہ کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس کو نجی تحویل میں دینے کے اس فیصلے سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے، جس سے ملک کے معاشی حالات کو سہارا مل سکے گا۔ 
دوسری جانب اس منصوبے کے سامنے بعض چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں سے سب سے اہم ایئرپورٹس کے موجودہ سرکاری ملازمین کا مستقبل اور ان کے تحفظات ہیں۔
فائنانشل ایڈوائزر کے لیے ایک بڑا امتحان یہ بھی ہوگا کہ وہ ملازمین کی ملازمتوں کے تحفظ کے حوالے سے ایسا جامع فریم ورک تیار کرے تاکہ آئندہ پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے بچا سکے۔

شیئر: