پاکستانی فیشن ڈیزائنرحسین رہر کی 79ویں کانز فلم فیسٹول میں شاندار انٹری، ’لکھنؤ کے نواب لگ رہے ہیں‘
پاکستانی فیشن ڈیزائنر حسین رہر نے 79ویں کانز فلم فیسٹیول میں شاندار انٹری دی، جس میں انہوں نے جنوبی ایشیائی فیشن اور ثقافت کی بھرپور نمائندگی کی۔
حسین رہر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ان کی روایتی شیروانی میں ملبوس کانز فلم فیسٹیول کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’روایت اور جدید فیشن کے حسین امتزاج پر مبنی یہ خصوصی ہاتھ سے بُنا ہوا شیروانی ڈیزائن مشرقی ورثے کو جدید فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس منفرد لباس کے ساتھ سبز ‘امام ضامن’ تعویذ بھی زیب تن کیا گیا، جو تحفظ اور برکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔‘
پوسٹ میں مزید لکھا گیا کہ ’یہ شاہکار لباس لاہور میں 15 ماہر کاریگروں نے تیار کیا، جسے ہلکے سنہری ٹشو سلک سے تخلیق کیا گیا۔ اس تخلیقی وژن کے پیچھے حسین رہر کی فنی مہارت اور جدید ڈیزائننگ نمایاں رہی۔‘
سوشل میڈیا پر صارفین حسین رہر کی کانز فلم فیسٹیول میں انٹری کو سراہ رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔
’کٹی کراچی‘ نامی صارف نے لکھا کہ ’اف میرے خدایا، میں سمجھ رہا تھا حسین رہر کوئی انکل ہوں گے۔ مبارکباد۔‘
مداح ان کے لباس کی تعریف کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی فیشن انڈسٹری کی نمائندگی پر مبارکبادیں دے رہے ہیں۔
ایم سید نامی صارف نے لکھا کہ ’خوبصورت اودھی شیروانی۔ لکھنؤ کے نواب لگ رہے ہیں، جہاں سے شیروانی کی ابتدا ہوئی۔‘
تسبیحہ نامی صارف نے لکھا کہ ’خوبصورت لباس، ماشاءاللہ۔‘
ارم قاضی نے لکھا کہ ’مجھے اپنے پسندیدہ پاکستانی ڈیزائنر پر فخر ہے۔ چمکتے رہیے۔‘ تاہم کچھ صارفین نے حسین رہر کی جانب سے جنوبی ایشیا کی ثقافت کی نمائندگی کے بیان پر اختلاف بھی ظاہر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں جنوبی ایشیا کے بجائے پاکستان کی نمائندگی کہنا چاہیے کیونکہ وہ پاکستانی ہیں۔ شگفتہ زرین نے لکھا کہ ’آپ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس پر آپ کو فخر ہونا چاہیے۔‘
مشعل بھٹی نے لکھا کہ ’آپ نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں؟‘