Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امارات کی ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کو جواز دینے کی کوششوں کی مذمت

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران یو اے ای ایران کے حملوں کا بڑا ہدف رہا۔ (فوٹو: روئٹرز)
متحدہ عرب امارات نے جمعہ کے روز ایران کی جانب سے امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کے جواز پیش کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد‘ کر دیا۔
یہ بیان وزیرِ مملکت خلیفہ بن شاہین المرار نے نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران دیا، جس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک تھے۔
خلیفہ بن شاہین المرار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آزادانہ فیصلوں کو نشانہ بنانے والے ’کسی بھی الزام یا دھمکی کو مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یو اے ای کسی بھی خطرے، الزام یا جارحانہ اقدام کے جواب میں اپنے مکمل خودمختار، قانونی، سفارتی اور عسکری حقوق محفوظ رکھتا ہے۔‘
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران یو اے ای ایران کے حملوں کا بڑا ہدف رہا۔
حالیہ ہفتوں میں ابوظبی اور تہران کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ ایران نے یو اے ای اور اس کی بحری سرگرمیوں پر مزید حملے بھی کیے ہیں۔
المرار نے کہا کہ 28 فروری سے جنگ شروع ہونے کے بعد یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے تقریباً 3 ہزار ڈرون اور میزائل حملے ناکام بنائے، جن میں شہری تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یو اے ای کسی سے تحفظ طلب نہیں کرتا اور بلا اشتعال جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برکس ممالک کے سفارتکار دو روزہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے۔
اجلاس کے اختتامی بیان میں انڈیا نے کہا کہ مغربی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے بعض رکن ممالک کے درمیان مختلف آرا پائی گئیں۔‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو یو اے ای پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران مخالف جنگ میں ’فعال شراکت دار‘ ہے۔
تاہم عباس عراقچی نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ ایران نے ’صرف امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو بدقسمتی سے ان ممالک کی سرزمین پر موجود ہیں۔‘
یو اے ای حکام نے حالیہ دنوں میں ایرانی بیانات کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امارات جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کا حامی ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک اور امریکہ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرے۔
المرار نے کہا کہ آبی گزرگاہ کی بندش نے خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے اور یہ ’بحری قزاقی کے مترادف ہے۔

شیئر: