Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ مشن آبنائے ہرمز میں بحری آمد رفت بحال کر سکتا ہے؟

برطانیہ رائل نیوی کا ٹائپ 45 ڈسٹرائر ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
عالمی توانائی کی منڈیوں میں اس وقت تیل کی شدید قلت محسوس کی جا رہی ہے جو آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
اس دوران ایک برطانوی جنگی بحری جہاز اس خطے کی طرف روانہ ہو رہا ہے، جو برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک مجوزہ دفاعی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے 9 مئی کو کہا کہ وہ رائل نیوی کا ٹائپ 45 ڈسٹرائر ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے، تاکہ ممکنہ کثیرالملکی مشن کی تیاری کی جا سکے، جو حالات سازگار ہونے پر اس اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کرے گا۔
یہ جنگی جہاز ایران سے جنگ کے آغاز کے فوراً بعد مارچ میں مشرقی بحیرۂ روم بھیجا گیا تھا، تاکہ قبرص کے دفاع میں مدد فراہم کی جا سکے۔ اس کی مشرق کی جانب منتقلی فرانس کے اس فیصلے کے بعد ہوئی ہے جس کے تحت اس کے طیارہ بردار بحری بیڑے ’چارلس ڈی گال‘ کو جنوبی بحیرۂ احمر کی طرف منتقل کیا گیا۔
برطانیہ نے12  مئی کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’وہ اس مستقبل کے مشن میں خودکار بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے والے نظام، انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، ٹائیفون لڑاکا طیارے اور ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ فراہم کرے گا، تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ ڈیسٹرائر اضافی تربیت اور تکنیکی جانچ کے بعد پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے تاکہ عملہ ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار ہو سکے۔

ایران کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز یا اس کے آس پاس کسی بھی اتحاد کی تعیناتی جنگ میں اضافے کے مترادف ہوگی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے دفاعی وزرا کے ایک ورچوئل اجلاس میں اس پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں یہ کثیرالملکی فوجی مشن ’حالات سازگار ہوتے ہی‘ شروع کر دیا جائے گا، جس میں کم از کم 40 ممالک شامل ہوں گے۔
برطانیہ نے کہا ہے کہ ’اس منصوبے کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 15 کروڑ 54 لاکھ ڈالر) کی نئی فنڈنگ دی جا رہی ہے، جو بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرونز اور ڈرون مخالف نظاموں کے لیے استعمال ہوگی۔‘ تاہم جان ہیلی نے زور دیا کہ یہ مشن ’دفاع کرنے کے علاوہ خودمختار اور قابلِ اعتبار‘ ہوگا۔
یہ وضاحت اس سیاسی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے جو ایران کے قریب کسی بھی مغربی بحری اقدام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر تجزیہ کار کرسٹوفر نیوٹن کے مطابق یہ اتحاد اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سفارتی پیش رفت کا انتظار کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران واضح طور پر یہ سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز یا اس کے آس پاس کسی بھی اتحاد کی تعیناتی جنگ میں اضافے کے مترادف ہوگی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے 10 مئی کو کہا کہ اس آبی راستے میں امریکی افواج کے ساتھ فرانسیسی اور برطانوی بحری موجودگی کا ایران فوجی جواب دے گا۔

برطانوی وزیر دفاع کے مطابق برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں یہ کثیرالملکی فوجی مشن ’حالات سازگار ہوتے ہی‘ شروع کر دیا جائے گا (فوٹو: روئٹرز)

اس سے قبل فرانس نے یہ کہا تھا کہ اس کا طیارہ بردار جہاز چارلس ڈی گال سوئز نہر سے ہوتا ہوا بحیرۂ احمر کی طرف جا رہا ہے، تاکہ ممکنہ مشترکہ فرانسیسی برطانوی مشن کے لیے تیاری کی جا سکے۔
خیال رہے کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان اپریل سے ایک عارضی جنگ بندی قائم ہے، لیکن امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ 11 مئی کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جنگ بندی ’انتہائی کمزور‘ ہے۔

شیئر: