ایران کی تجاویز پر امریکی جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں: ایرانی میڈیا
ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق، پاکستان نے ایران کا جواب امریکہ تک پہنچا دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی میڈیا نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق ایران کی تجویز کے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت دینے میں ناکام رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے پانچ نکاتی فہرست پیش کی، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے اور اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ منتقل کر دے۔
ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ کسی عملی رعایت کے بغیر وہ مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور یہ صورتحال مذاکرات کو تعطل کی طرف لے جائے گی۔‘
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق، امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات کی تجویز کے جواب میں ایران نے جنگ کے تمام محاذوں، خصوصاً لبنان میں لڑائی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور دیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ کب اور کیسے دوبارہ کھولی جائے گی۔
یہ ردِعمل اس امریکی تجویز کے بعد سامنے آیا جس میں متنازع معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، پر بات چیت شروع کرنے سے پہلے جنگ بندی کی بات کی گئی تھی۔
ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق، پاکستان، جو اس جنگ سے متعلق مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے، نے ایران کا جواب امریکہ تک پہنچا دیا ہے۔
