Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر شی آبنائے ہرمز کو کھلوانے پر متفق: ٹرمپ، چین نے کوئی اشارہ نہیں دیا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے (فوٹو: اے پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جانا چاہیے، تاہم دوسری جانب چین نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اس معاملے پر کوئی اقدام کرے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیجنگ کے دو روزہ دورے سے لوٹنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی تیل خریدنے والی چین کی کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے۔
امریکی صدر نے ایئر فورس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ چینی صدر نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنے کا کوئی وعدہ کیا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’میں کوئی فیور نہیں مانگ رہا کیونکہ جب آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو بدلے میں فیور دنیا بھی پڑتی ہے۔‘
صدر شی جن پنگ نے ایران سے متعلق کسی امر پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم چین کی وزارت خارجہ نے جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا تنازع ہے جو کبھی شروع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا اور اس کے جاری رہنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کی راہ میں سب بے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عباس عراقچی نے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے موقف اپنا کہ ’ہمیں ان کی سنجیدگی کے بارے میں شکوک ہیں۔ تاہم اگر واشنگٹن منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہو تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایران کی جانب سے بھجوائی گئی باضابطہ تجاویز کو ’فضول‘ قرار دیا تھا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ رعایتیں شامل کی تھیں۔
تاہم دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کو مقصد ایران کی افزودہ شدہ یورینیم کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور کمزور جنگ بندی برقرار رہنے کے باوجود خطے میں بدستور کشیدگی پائی جاتی ہے جس کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو کھلی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جبکہ اس سے عالمی سطح پر سر اٹھانے والے توانائی کے بحران کو طول بھی مل سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر اب بھی ایران کا کنٹرول ہے جو کہ ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور جنگ چھڑنے سے قبل وہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچ فیصد حصہ گزرتا تھا اور اس کو ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد بند کر دیا تھا۔
دوسری جانب امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان ثالثی کا کردار جاری رکھے ہوئے ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)

’چین سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے‘
ایران کے وزیر خاجہ عباس عراقچی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران دوسرے ممالک خصوصاً چین کی سفارتی حمایت کا خیرمقدم کرے گا اور اس موقع پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں بیجنگ کے کردار کا حوالہ بھی دیا۔
بیجنگ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے میں فعال ہونے کی درخواست پر عباسی سطح پر زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی گئی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا کہ صدر جن پنگ اس معاملے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
جمعرات کو پاکتسان کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنا ثالثی کا کردار جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا امریکہ نے کوئی باضابطہ جواب دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں اور امن عمل ابھی جاری ہے۔‘
اسی طرح پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سنیچر کو تہران پہنچے اور یہ بھی ثالثی کی کوششوں کی ہی کڑی ہے وہ ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

 

شیئر: