ایورسٹ پر تاریخ رقم: کامی ریتا کی 32ویں اور لکھپا شیرپا کی 11ویں فتح، نئے عالمی ریکارڈ قائم
نیپالی کوہ پیما کامی ریتا شیرپا، جنہیں ’ایورسٹ مین‘ کہا جاتا ہے، نے اتوار کو 32ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ (فوٹو: اے پی)
نیپالی کوہ پیما کامی ریتا شیرپا، جنہیں ’ایورسٹ مین‘ کہا جاتا ہے، نے اتوار کو 32ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ لکھپا شیرپا نے 11ویں بار چوٹی سر کر کے خواتین کا اپنا ہی ریکارڈ مزید بہتر بنا لیا۔
نیپال کے وزیرِاعظم بالین شاہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’آج نیپالی کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر اس عظیم پہاڑ پر تاریخ رقم کی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی تاریخی کامیابیاں صرف غیر متزلزل حوصلے، سخت نظم و ضبط، اور اپنے کام سے کمٹمنٹ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
56 سالہ کامی ریتا شیرپا نے پہلی بار 1994 میں ایک تجارتی مہم کے دوران ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد سے وہ تقریباً ہر سال گاہکوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ایورسٹ سر کرتے رہے ہیں۔
52 سالہ لکھپا شیرپا، جنہیں ’ماؤنٹین کوئین‘ کہا جاتا ہے، نے پہلی بار 2000 میں ایورسٹ سر کیا تھا اور وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی کو کامیابی سے سر کر کے واپس آنے والی پہلی نیپالی خاتون بن گئی تھیں۔
نیپال کے محکمہ سیاحت کے ترجمان ہمال گوتم نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ نیپال کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے ریکارڈ دیگر کوہ پیماؤں کے لیے مزید جوش و جذبہ پیدا کرتے ہیں، اور ایورسٹ پر صحت مند مقابلے کے ذریعے ریکارڈ توڑنا کوہ پیمائی کو زیادہ محفوظ، باوقار اور بہتر انداز میں منظم بنانے میں مدد دے گا۔
’صرف اپنا کام کر رہا ہوں‘
کامی ریتا شیرپا نے 2024 میں ایک اور کامیاب سمٹ کے بعد کہا تھا کہ وہ ’صرف اپنا کام کر رہے ہیں‘ اور ریکارڈ بنانے کا کوئی خاص ارادہ نہیں رکھتے۔
1953 میں ایڈمنڈ ہلیری اور تنزنگ نورگے شیرپا کی پہلی کامیاب مہم کے بعد سے کوہ پیمائی ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔
اس سیزن میں نیپال نے ایورسٹ سر کرنے کے لیے ریکارڈ 492 اجازت نامے جاری کیے ہیں، جبکہ ایورسٹ کے دامن میں کوہ پیماؤں اور معاون عملے کے لیے خیموں کا ایک پورا شہر قائم کیا گیا ہے۔
وزیرِاعظم بالین شاہ نے شیرپا برادری کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے انہیں ’ہمالیہ کے گمنام ہیروز‘ قرار دیا، جو خطرات مول لے کر دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو محفوظ طریقے سے چوٹی تک پہنچاتے ہیں۔
چونکہ زیادہ تر کوہ پیما کم از کم ایک نیپالی گائیڈ کی مدد سے مہم سر کرتے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں تقریباً ایک ہزار کوہ پیما چوٹی کی جانب روانہ ہوں گے۔
زیادہ تعداد کے باعث ایک بار پھر پہاڑ پر رش بڑھنے کے خدشات جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر اگر خراب موسم کوہ پیمائی کے محدود وقت کو مزید مختصر کر دے۔
