Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ثالثی کی کوششیں جاری: تہران میں پاکستان اور ایران کے وزرائے داخلہ کی ملاقات

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
28 فروری کو تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں پاکستان ایک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائی کی تھی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جو کہ عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
اس گزرگاہ سے دنیا کے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اگرچہ 8 اپریل کو اعلان کردہ ایک نازک جنگ بندی اب بھی برقرار ہے لیکن اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کے پہلے دور کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت بڑی حد تک تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام اور علاقائی سلامتی پر تنازعات اس عمل میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ’ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور دورے پر آئے ہوئے ان کے پاکستانی ہم منصب سید محسن نقوی نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، جس میں سرحدی تجارت، راہداری اور اشیاء کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے دونوں پڑوسی ممالک کے مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔‘
ایرانی  میڈیا کے ماطبق اسکندر مومنی نے پاکستانی وزیر داخلہ کے اس ’غیر علانیہ دورۂ تہران‘ کے دوران ان کے ساتھ وسیع پیمانے پر (مختلف) امور، ’خاص طور پر سرحدی تجارت اور اسے فروغ دینے کے طریقوں‘ پر بات چیت کی۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی نے امریکہ-ایران تنازع یا پاکستان کے ثالثی کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا تاہم اس نے بتایا کہ ’اسکندر مومنی نے ایران کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ موقف پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی جڑیں ان کی تاریخ میں پیوست ہیں۔‘
دوسری جانب پاکستانی حکومت نے بھی محسن نقوی کے اس دورے کے مقصد کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ایرانی میڈیا پر محسن نقوی کے دورے کی خبریں آنے کے بعد وزارتِ داخلہ کے ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’عرب نیوز‘ کو تصدیق کی کہ ’وہ ایران پہنچ چکے ہیں۔‘
تاہم ذرائع نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس سے قبل سنیچر کو ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ محسن نقوی ’چند گھنٹے قبل‘ تہران پہنچے ہیں اور ان کی اسلامی جمہوریہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات متوقع ہے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپریل میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ تہران کا تین روزہ دورہ کیا تھا جب اسلام آباد نے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کو آسان بنانے کی کوششوں کے تحت علاقائی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے تیز کیے تھے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ملک علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے مقصد سے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے تاہم انہوں نے جاری مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
اس وقت اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا تھا کہ ’سفارت کاری کی گھڑی رکی نہیں ہے۔ امن کا عمل کام کر رہا ہے۔‘
محسن نقوی کا یہ تازہ ترین دورہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے نئی دہلی میں دیے گئے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن پر عدم اعتماد امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ انہوں نے خطے کے ممالک کی جانب سے سفارتی تعاون کے لیے آمادگی کا اشارہ بھی دیا تھا۔

شیئر: