تہران میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
28 فروری کو تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں پاکستان ایک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات ہوئی ہے جس کے دوران اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیال رہے وزیر داخلہ محسن نقوی دو روزہ دورے پر ایران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل ان کی اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
عرب نیوز کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
28 فروری کو تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں پاکستان ایک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائی کی تھی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جو کہ عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
اس گزرگاہ سے دنیا کے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اگرچہ 8 اپریل کو اعلان کردہ ایک نازک جنگ بندی اب بھی برقرار ہے لیکن اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کے پہلے دور کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت بڑی حد تک تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام اور علاقائی سلامتی پر تنازعات اس عمل میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ’ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور دورے پر آئے ہوئے ان کے پاکستانی ہم منصب سید محسن نقوی نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، جس میں سرحدی تجارت، راہداری اور اشیاء کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے دونوں پڑوسی ممالک کے مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔‘
