پاکستان نے ایران کی ترمیمی تجویز امریکہ کے حوالے کر دی، ’ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے‘
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی طرف سے پیش کی جانے والی ایک ترمیمی تجویز امریکہ کے ساتھ شیئر کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو پیر کو ایک پاکستانی ذریعے نے اس بارے میں بتایا ہے۔
تاہم، ذریعے نے خبردار کیا ہے کہ فریقین کے پاس اختلافات کو کم کرنے کے لیے ’زیادہ وقت نہیں ہے۔‘
بعد ازاں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کے موقف سے ’پاکستان کے ذریعے امریکی فریق کو آگاہ‘ کر دیا گیا ہے لیکن انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
واضح رہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد اس وقت ایک کمزور جنگ بندی نافذ ہے۔
تاہم پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے۔
پاکستانی ذریعے نے اس ترمیمی تجویز کی تفصیلات روئٹرز کو فراہم نہیں کیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اختلافات کو ختم کرنے میں وقت لگے گا تو انہوں نے کہا کہ فریقین ’مسلسل اپنے اہداف (گول پوسٹ) بدل رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘
واشنگٹن نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے اور آبنائے ہرمز پر عائد کی جانے والی عملی ناکہ بندی کو ختم کرے جہاں سے عام طور پر دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنگ سے ہونے والے نقصان کے معاوضے، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جہاں اسرائیل ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے خلاف برسرِپیکار ہے۔
صدر دونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اپنی سوشل میڈیا ایپ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کے لیے ’وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا ’بہتر ہوگا کہ وہ تیزی سے آگے بڑھیں، ورنہ ان کا کچھ باقی نہیں بچے گا۔ وقت کی بہت اہمیت ہے۔‘
نیوز ویب سائٹ ’ایکسیاس‘ کی رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کریں گے جس میں دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
