حکومت کی نئی آٹو پالیسی، کون سی گاڑیاں سستی ہوں گی اور کن پر ٹیکس لگے گا؟
حکومت کی نئی آٹو پالیسی، کون سی گاڑیاں سستی ہوں گی اور کن پر ٹیکس لگے گا؟
اتوار 17 مئی 2026 5:12
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
گذشتہ چند روز کے دوران آپ کی نظر سے سوشل میڈیا پر ایسی درجنوں پوسٹیں گزری ہوں گی جن میں گاڑیوں کی نئی کیٹیگریز، ٹیکسوں میں ردوبدل اور قیمتوں میں اچانک اُتار چڑھاؤ کی خبریں شیئر کی گئیں۔
کوئی اسے الیکٹرک گاڑیوں کا انقلاب کہہ رہا ہے تو کوئی روایتی ہائبرڈ گاڑیوں کی موت، لیکن کیا یہ سب محض سوشل میڈیا کی افواہیں ہیں یا ان کے پیچھے کوئی ٹھوس حقیقت ہے؟
اس رپورٹ میں ہم نے یہی حقیقت جاننے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کی نئی آٹو پالیسی میں کیا تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور ان کے مارکیٹ پر کیا اثرات ہوں گے؟
اصل معاملہ یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے آئندہ پانچ برسوں (2031-2026) کے لیے نئی آٹو پالیسی کا جامع مسودہ (ڈرافٹ) تیار کر لیا ہے، جسے آنے والے بجٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
اب ہر وہ گاڑی جو پیٹرول کے ساتھ بیٹری پر چلتی ہے، اسے یکساں رعایت نہیں ملے گی۔ حکومت نے ’نیو انرجی وہیکلز‘کے نام سے ایک بالکل نئی کیٹیگری متعارف کروائی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی کیٹیگری کا سب سے بڑا فائدہ پی ایچ ای ویز (پلگ اِن ہائبرڈ) اور بی ای ویز (مکمل الیکٹرک) گاڑیوں کو پہنچے گا۔
اگر آپ کی گاڑی دیوار میں پلگ لگا کر چارج ہو سکتی ہے اور کم سے کم 50 کلومیٹر بجلی پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو حکومت اسے ’سبز اور ماحول دوست‘ مانے گی، ورنہ نہیں۔
اس نئی درجہ بندی کا گاڑیوں کی قیمتوں پر بڑا اور براہِ راست اثر پڑنے جا رہا ہے۔ مسودے کے مطابق پلگ اِن ہائبرڈ پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے 1 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس کے باعث ان گاڑیوں کی قیمتوں میں 15 سے 16 فیصد تک بڑی کمی متوقع ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں ایم جی یا بی وائی ڈی جیسی کمپنیوں کی پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں سستی ہو سکتی ہیں۔
دوسری طرف، وہ عام ہائبرڈ گاڑیاں جنہیں دیوار سے پلگ لگا کر چارج نہیں کیا جا سکتا (جیسے ٹویوٹا کرولا کراس وغیرہ)، انہیں اِس ’گرین کیٹیگری‘ سے باہر نکال دیا گیا ہے۔
عام ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 5 سے 8 فیصد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس طرح اِن گاڑیوں پر 9 سے 18 فیصد تک سیلز ٹیکس برقرار رہے گا، جس سے ایسی گاڑیوں کی قیمتوں میں 5 سے 8 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ مڈل کلاس طبقے کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آلٹو سے بھی چھوٹی اور سستی الیکٹرک فور ویلر (L6/L7 کیٹیگری) متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ عام موٹرسائیکل سوار محفوظ سواری پر شفٹ ہو سکیں۔
نئی پالیسی کے تمام پہلوؤں پر ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے آٹوموبائل سیکٹر کے ماہر علی خضر کا کہنا تھا کہ حکومت کی یہ نئی آٹو پالیسی بنیادی طور پر نیو انرجی وہیکلز کی نئی تعریف متعارف کروانے، انہیں مُراعات دینے اور ملک میں لوکلائزیشن کو فروغ دینے کے گرد گھومتی ہے۔
انہوں نے پالیسی کے مثبت پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت فیول (پیٹرول اور ڈیزل) کا خرچہ بہت زیادہ ہے، اس لیے انرجی وہیکلز کو انسنٹیوائز (رعایتیں) کرنا چاہیے کیونکہ جب سڑکوں پر انرجی وہیکلز زیادہ ہوں گی تو نہ صرف ملک کا فیول بل کم ہوگا بلکہ یہ ماحول دوست بھی ثابت ہوں گی۔
’نیو انرجی وہیکل کی کیٹیگری میں ایک تو بی ای ویز (مکمل الیکٹرک گاڑی) شامل ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ رینج ایکسٹینڈڈ ای وی اور ہائبرڈ گاڑیاں بھی اس کا حصہ ہیں جو روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں بہت کم فیول استعمال کرتی ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق ’بجٹ میں پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 15 سے 16 فیصد تک کمی متوقع ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
علی خضر کے مطابق ’اب حکومت کو چاہیے کہ ان گاڑیوں پر جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں واضح کمی کرے تاکہ مارکیٹ میں ان کا استعمال تیزی سے بڑھے۔‘
کمپنیوں کے مابین مقابلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیاں، جو بڑے پیمانے پر نیو انرجی وہیکلز بناتی ہیں، وہ تو اس پالیسی کے حق میں ہیں لیکن پاکستان کے آٹو سیکٹر کے ’پرانے کھلاڑی‘ شاید اس سے اتنا اتفاق نہیں کرتے۔
علی خضر کا کہنا ہے کہ نئے مسودے میں جو سی کے ڈی پارٹس پاکستان میں لوکلائزڈ ہو چکے ہیں، ان پر ڈیوٹی پروٹیکشن 46 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد تک لانے کی تجویز ہے جو کہ خوش آئند عمل ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں اگر انرجی گاڑیوں کا فروغ ہو رہا ہے تو اس کا انفراسٹرکچر کہاں کھڑا ہے اور کیا چارجنگ سٹیشنز پر پہلے کام کرنے کی ضرورت نہیں؟
اس پر اُنہوں نے بتایا کہ ’ہمیں اس بحث میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ یعنی پہلے انفراسٹرکچر بنے گا یا پہلے گاڑیاں آئیں گی۔‘
’جُوں جُوں مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ ہوگا، ان کا انفراسٹرکچر بھی ضرورت کے تحت ساتھ ساتھ خود ہی بڑھتا چلا جائے گا۔‘
ماہرین کہتے ہیں کہ ’کمرشل چارجنگ سٹیشن پر گاڑیاں چارج کرنے کی زیادہ قیمت وصول نہ کی جائے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تاہم علی خضر نے حکومت کو ایک چیلنج کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ایک بڑا مسئلہ کمرشل اور ہوم چارجنگ کا فرق ہے۔‘
’اگر کوئی شہری گھر میں اپنی گاڑی چارج کرتا ہے اور اسے رات کے وقت بجلی کا یونٹ قریباً 50 روپے کا پڑتا ہے، جبکہ باہر کمرشل چارجنگ سٹیشن پر وہی یونٹ 100 روپے کا ملے گا، تو لوگ باہر سے گاڑی چارج نہیں کروائیں گے۔‘
علی خضر کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ جس قیمت پر بجلی کا یونٹ گھر پر گاڑی چارج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہی ریٹ باہر بھی لاگو کیا جائے اور الیکٹرووہیکلز کے لیے الگ سے بھاری کمرشل چارجز نہ لگائے جائیں۔
’اس کے علاوہ موٹرویز اور ہائی ویز پر جہاں چارجنگ پوائنٹس قائم ہیں، وہاں پارکنگ اور چارجنگ سپیس کے نام پر جو اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں وہ ختم کیے جائیں، اور حکومت اس نظام کو کمرشل طور پر دیکھنے سے گریز کرے۔‘
دوسری جانب اسلام آباد میں گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک تاجر عمر حیات سمجھتے ہیں کہ پالیسی کاغذ پر جتنی بھی پُرکشش ہو، اس کی کامیابی کا دارومدار ’پالیسی کے تسلسل اور شفافیت پر ہے۔‘
’حکومت پرانے مینوفیکچررز کے تحفظات بھی دُور کرے تاکہ نئی سرمایہ کاری خطرے میں نہ پڑے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں پچھلے چند برسوں کے دوران گراوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت صرف 30 فیصد تک رہ گئی تھی۔
’حکومت اگر چینی کمپنیوں یا الیکٹرک گاڑیوں کو مُراعات دے رہی ہے تو اسے پرانے مینوفیکچررز کے تحفظات بھی دُور کرنا ہوں گے تاکہ نئی سرمایہ کاری خطرے میں نہ پڑے۔‘
علی خضر نے صارفین کے لیے بینکنگ ریلیف اور پروٹیکشن کلاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈرافٹ میں گاڑیوں کے لیے سات سال کی قسطوں کا پلان اور ’اون منی‘ کے خاتمے کے لیے ڈیلیوری میں تاخیر پر تین فیصد جُرمانہ (کائبور کے مطابق) عائد کرنے کی شقیں خوش آئند ہیں۔
تاہم ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہوگا کہ حکومت بجٹ میں اِن تجاویز کو آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے کتنا برقرار رکھ پاتی ہے، کیونکہ ماضی میں ٹیکس چُھوٹ اکثر آخری وقت پر واپس لی جاتی رہی ہے۔