Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی قانون نافذ العمل

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی اجازت دینے والا ایک اسرائیلی قانون اتوار کے روز نافذ العمل ہو گیا۔

عرب نیوز نے ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل اوی بلوتھ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کیے۔

اس حکم نامے کے تحت ایسے فلسطینی حملوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں کو جن کے نتیجے میں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہو، سزائے موت کو ’واحد دستیاب سزا‘ کے طور پر لازمی نافذ کرنا ہو گا۔ صرف ’خصوصی حالات‘ کے تحت عمر قید کی اجازت دی جا سکے۔

اخبار ’ہارٹز‘ نے رپورٹ کیا کہ قانون کے الفاظ اس کے اطلاق کو قریباً خصوصی طور پر فلسطینیوں کی طرف موڑتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ قانون سازی میں شامل ثبوتوں کی شرائط یہودی حملہ آوروں پر اس کے اطلاق کو ’مشکل یا قریباً ناممکن‘ بناتی ہیں۔

سزائے موت سنانے کی شرائط میں سے ایک کا تعلق زیرِ سماعت مشتبہ شخص کے مقصد (مٹیو) سے ہے جو کہ یا تو ’ریاستِ اسرائیل کے وجود کی نفی کرنا ہو یا علاقے میں فوجی کمانڈر کے اختیار کو چیلنج کرنا ہو‘۔ جس کا اطلاق ممکنہ طور پر صرف فلسطینیوں پر ہی ہو گا۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے مارچ کے آخر میں ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت مہلک حملوں میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا یافتہ فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس اقدام پر امتیازی سلوک کے طور پر تنقید کی گئی ہے اور اسے فوری طور پر عدالت میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔

آٹھ عرب اور اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر، اردن، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، پاکستان، ترکیہ اور مصر نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے قانون کی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔

ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے ’تیزی سے بڑھتے ہوئے امتیازی اور جارحانہ اسرائیلی اقدامات‘ کے خلاف انتباہ کیا ہے جو نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کو ہوا دیتے ہیں اور ایک ایسے منکرانہ بیانیے کو جنم دیتے ہیں جو مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق اور ان کے وجود ہی سے انکار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف اس قانون کا امتیازی اطلاق اور تشدد، بھوک سے مارنے اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی جیسی معتبر رپورٹس کی موجودگی میں یہ قانون سازی ایک خطرناک پیش رفت ہے۔

شیئر: