اسرائیل کے ساتھ جنگ روکنے کے لیے ’ناممکن کو ممکن‘ بنائیں گے: لبنانی صدر
17 اپریل کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل جنوبی لبنان میں مسلسل فضائی حملے، عمارتوں کی تباہی اور انخلا کے احکامات جاری کر رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
لبنان کے صدر جوزف عون نے پیر کے روز کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ روکنے کے لیے ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کریں گے، کیونکہ جنگ بندی اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے باوجود لڑائی ختم نہیں ہو سکی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں متعدد حملے کیے، جبکہ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے شمالی اسرائیل میں ایک فوجی ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔
17 اپریل کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل جنوبی لبنان میں مسلسل فضائی حملے، عمارتوں کی تباہی اور انخلا کے احکامات جاری کر رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔
صدر جوزف عون نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کے لیے لبنان نے جو فریم ورک مقرر کیا ہے اس میں اسرائیلی انخلا، جنگ بندی، سرحد پر فوج کی تعیناتی، بے گھر افراد کی واپسی اور اقتصادی امداد شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے عہدے اور ذمہ داری کے تحت میرا فرض ہے کہ میں ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کروں اور کم سے کم نقصان والے راستے کا انتخاب کروں تاکہ لبنان اور اس کے عوام کے خلاف جنگ روکی جا سکے۔‘
گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان تیسرے دور کے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع کی گئی تھی، تاہم حزب اللہ ان مذاکرات کی مخالف ہے۔
لیکن جنگ بندی تشدد روکنے میں ناکام رہی ہے۔ حزب اللہ نے پیر کو کہا کہ اس نے شمالی اسرائیل میں ایک فوجی ہدف پر ڈرون حملہ کیا ہے۔
حزب اللہ کے مطابق ہدف اسرائیلی دشمن فوج کا آئرن ڈوم پلیٹ فارم تھا جو شمالی اسرائیل کے ایک فوجی کیمپ میں موجود تھا۔ آئرن ڈوم اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام ہے۔
گروپ نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی ’خلاف ورزیوں‘ کے جواب میں کیا گیا۔
